وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان کو انگریزی سمجھ نہ آئی، طالبہ کو پشتو میں بریفنگ دینا پڑی، ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا ٹرولنگ

وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان کو انگریزی سمجھ نہ آئی، طالبہ کو پشتو میں بریفنگ دینا پڑی، ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا ٹرولنگ

چارسدہ میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر بریفنگ کے دوران وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن خیبر پختونخوا مینا خان انگریزی بریفنگ سمجھنے سے قاصر رہے، جس کے بعد طالبہ کو مجبورا بریفنگ پشتو زبان میں دینا پڑی۔

چارسدہ میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں طالبہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن خیبر پختونخوا مینا خان بریفنگ سمجھنے میں ناکام رہے اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تعلیمی و سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

وزیر موصوف کی نااہلی پر صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی منصب پر بیٹھے افراد بنیادی فہم سے بھی عاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا، صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کو جرمنی جانے سے روک دیا گیا، باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آف لوڈ

چارسدہ کے ایک تعلیمی ادارے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے موضوع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا، جہاں جدید ٹیکنالوجی پر عبور رکھنے والی ایک ہونہار طالبہ نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران حیرت انگیز صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن خیبر پختونخوا مینا خان انگریزی زبان میں دی جانے والی سائنسی اور تکنیکی بریفنگ کو سمجھنے میں مکمل طور پر قاصر نظر آئے۔

ان کی اس کیفیت کو دیکھ کر ساتھ موجود ایک خاتون نے فوراً مداخلت کی اور بریفنگ کو آسان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی۔

پشتو زبان میں دوبارہ بریفنگ کی منتقلی

معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے طالبہ نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور انگریزی کو چھوڑ کر روانی کے ساتھ پشتو زبان میں مصنوعی ذہانت کے خدوخال اور اپنے پراجیکٹ پر روشنی ڈالی تاکہ صوبائی وزیر کو بات آسانی سے سمجھ آ سکے۔

یہ سارا منظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا جو دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر طوفان کی طرح پھیل گیا۔ پشتو زبان میں بریفنگ دینے کا یہ ویڈیو کلپ اب سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے جس پر عوام کی جانب سے ملے جلے اور سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل اور عوامی تنقید

اس وائرل ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور تعلیمی ماہرین کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:سہیل آفریدی اور مینا خان کی جانب سے’آئی ایس ایف‘ کا قیام تعلیمی اداروں میں منشیات کا نیٹ ورک قائم کرنا تھا، رضوان رضی کا بڑا انکشاف

صارفین کا کہنا ہے کہ یہ صوبے کے تعلیمی نظام کے ساتھ ایک بھیانک مذاق ہے کہ اَن پڑھ اور غیر سنجیدہ نوعیت کے افراد کو اعلیٰ ترین سرکاری مناصب پر بٹھا دیا گیا ہے۔

عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو شخص ایک طالبہ کی تکنیکی بریفنگ انگریزی یا اردو میں سمجھنے سے قاصر ہو، وہ صوبے کی یونیورسٹیوں کی بہتری اور نالج بیسڈ اکانومی کے لیے کیا لائحہ عمل طے کرے گا۔

سوشل میڈیا صارفین کے مطابق ایسے عہدیدار جب یونیورسٹیوں میں جا کر طلبا سے خطاب کرتے ہیں اور ڈگریاں تقسیم کرتے ہیں، تو یہ ریاست اور تعلیم کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

نظامِ تعلیم کی زبوں حالی اور سیاسی تقرریاں

یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کی ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ جب محکمہ ہائیر ایجوکیشن جیسے کلیدی اور ٹیکنیکل محکمے کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھ میں دے دی جائے جن کا جدید سائنسی علوم، تحقیق اور ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو، تو ترقی کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت آج کی دنیا کا سب سے بڑا اور اہم موضوع ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اس موضوع کی بنیادی الف بے سے بھی ناآشنا ہیں۔

اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ہاں قابلیت اور میرٹ کو پس پشت ڈال کر سیاسی وفاداریوں کو ترجیح دی جاتی ہے، جس کا خمیازہ صوبے کے نوجوانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

Related Articles