صوبہ پنجاب میں لا گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ لازمی قرار دیے جانے کے باوجود کامیاب نہ ہونے والے 777 وکلا کے لائسنس پنجاب بار کونسل نے معطل کر دیے۔
کونسل کے مطابق کورونا وبا کے دوران خصوصی انتظامات کے تحت لائسنس حاصل کرنے والے وکلا کو بعد ازاں امتحان پاس کرنے کی مہلت دی گئی تھی، تاہم مقررہ مدت میں شرط پوری نہ کرنے پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
امتحان میں ناکامی پر فیصلہ کن کارروائی
پنجاب بار کونسل نے لا گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ میں کامیابی حاصل نہ کرنے والے 777 وکلا کے لائسنس معطل کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر دیا ہے۔
کونسل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قانونی تقاضوں اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے تاکہ صرف وہی وکلا وکالت جاری رکھ سکیں جو مقررہ اہلیت پر پورا اترتے ہوں۔
کونسل کے مطابق معطل کیے گئے تمام وکلا کے ریکارڈ متعلقہ سیشن ججوں اور پنجاب بھر کی بار ایسوسی ایشنز کو بھی ارسال کیے جا رہے ہیں تاکہ فیصلے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
کورونا کے دوران خصوصی رعایت
پنجاب بار کونسل کے مطابق کورونا وبا کے دوران عدالتی ہدایات کی روشنی میں تقریباً 3400 قانون کے گریجویٹس کو لا گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ کے بغیر عارضی طور پر وکالت کا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ اس وقت غیر معمولی حالات کے باعث معمول کا امتحانی نظام متاثر تھا، جس کے پیش نظر یہ انتظامی رعایت دی گئی۔
بعد ازاں حالات معمول پر آنے کے بعد کونسل نے تمام متعلقہ وکلا کو ہدایت کی کہ وہ 2022 اور 2023 کے دوران لازمی امتحان پاس کر کے اپنی اہلیت ثابت کریں اور کامیابی کا نتیجہ جمع کرائیں۔
بیشتر وکلا نے شرط پوری کر دی
بار کونسل کا کہنا ہے کہ خصوصی رعایت کے تحت لائسنس حاصل کرنے والے وکلا کی بڑی تعداد نے مقررہ مدت کے اندر لا گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا اور اپنے رزلٹ کارڈ جمع کرا دیے۔
تاہم 777 وکلا ایسے رہے جو امتحان میں کامیاب نہ ہو سکے یا مقررہ تقاضے پورے نہ کر سکے، جس کے باعث ان کے لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
عدالتی اور بار سطح پر عمل درآمد
کونسل کے مطابق معطل وکلا کی فہرست پنجاب بھر کے سیشن ججوں اور بار ایسوسی ایشنز کو بھجوائی جا رہی ہے تاکہ ان وکلا کو عدالتی کارروائیوں میں وکالت سے روکا جا سکے اور لائسنس کی معطلی کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
لا گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ کیوں ضروری ہے؟
لا گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے امیدوار وکالت کے پیشے کے لیے مطلوب علمی اور قانونی اہلیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ اس امتحان کے ذریعے پیشہ ورانہ معیار، عدالتی نظام پر عوامی اعتماد اور قانونی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پنجاب بار کونسل کا حالیہ فیصلہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قانونی پیشے میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اگرچہ کورونا وبا کے دوران دی جانے والی رعایت غیر معمولی حالات کا تقاضا تھی، لیکن مستقل بنیادوں پر پیشہ ورانہ اہلیت کا معیار برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
دوسری جانب یہ فیصلہ ان وکلا کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ قانونی تقاضوں اور امتحانی شرائط پر عمل کیے بغیر وکالت جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف قانونی شعبے میں احتساب کا عمل مضبوط ہوگا بلکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔