پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج “فادرز ڈے” یعنی والد کا عالمی دن روایتی جوش و جذبے اور گہری عقیدت کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
یہ دن ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو دنیا بھر میں اس عظیم ہستی کی محبت، انتھک محنت، اور لازوال قربانیوں کے اعتراف کے طور پر وقف کیا جاتا ہے جسے ہم ‘باپ’ کہتے ہیں۔
یہ دن ایک ایسی ہستی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو خاندان کی بقا اور بچوں کی خوشحالی کے لیے اپنی ذات کو مٹا دیتی ہے۔
ماں کی گود اگر جنت ہے، تو باپ اس جنت کا دروازہ ہے
جس طرح ایک ماں اپنی اولاد کو ممتا کی بے پناہ اور خوبصورت محبت سے نوازتی ہے، بالکل ویسے ہی ایک باپ دن رات تپتی دھوپ اور کٹھن حالات میں محنت کر کے اپنی اولاد کی ضروریات، چھوٹی چھوٹی خواہشات اور ادھورے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کرتا ہے۔
وہ زمانے کے ہر گرم و سرد کا مقابلہ کرتا ہے، خاموشی سے ہر بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھاتا ہے، اور اپنی ذاتی خوشیوں، آرام اور سکون کو پسِ پشت ڈال کر بچوں کے روشن اور بہتر مستقبل کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔
ہر مصیبت کے سامنے مضبوط ڈھال
باپ، چاہے کسی بھی طبقے، پیشے یا سماجی حیثیت سے تعلق رکھتا ہو، وہ اپنی اولاد کے لیے ایک ایسی گھنی چھاؤں ہے جو ہر مشکل، ہر طوفان اور ہر مصیبت میں اولاد کے سامنے ایک ناقابلِ تسخیر ڈھال بن کر کھڑا رہتا ہے۔
وہ ایک ایسے شجرِ سایہ دار کی مانند ہے جو خود تو زندگی کی کڑی دھوپ، تلخیاں اور تکالیف سہتا ہے، مگر اپنی اولاد کو ہمیشہ سکون کے سائے میں رکھتا ہے اور اسے زمانے کی تپش کا احساس تک نہیں ہونے دیتا۔
صرف ایک دن نہیں، بلکہ عمر بھر کی یاد دہانی
’فادرز ڈے‘ محض سال کا ایک دن یا کوئی رسمی تہوار نہیں ہے، بلکہ یہ ہم سب کے لیے ایک کڑی یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے اس سب سے مضبوط ستون یعنی اپنے والد کی قدر کرنی چاہیے، اور یہ قدر صرف آج کے دن تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ زندگی کے ہر ہر لمحے اور ہر دن کا اثاثہ ہونی چاہیے۔
آج کا دن اس عظیم ہستی کا شکر گزار ہونے اور انہیں یہ بتانے کا دن ہے کہ وہ ہماری زندگی میں کتنے اہم ہیں۔ آئیے! آج کے دن ہم سب مل کر اپنے والد کو سلامِ محبت پیش کریں اور ان کی بے لوث چاہت اور لازوال قربانیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کریں۔
فادرز ڈے کی تاریخ اور سماجی اہمیت
اگرچہ والد سے محبت اور ان کا احترام کسی ایک دن کا محتاج نہیں، لیکن عالمی سطح پر اس دن کو منانے کی تاریخ بیسویں صدی کے اوائل سے ملتی ہے۔ اس دن کو باقاعدہ طور پر منانے کا آغاز امریکہ سے ہوا، جہاں ’سونورا سمارٹ ڈوڈ‘ نامی خاتون نے، جن کی پرورش ان کے والد نے تنہا (سنگل پیرنٹ کے طور پر) کی تھی، ماں کی طرح والد کی قربانیوں کو بھی تسلیم کرنے کی مہم چلائی۔
بالآخر 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے جون کے تیسرے اتوار کو سرکاری طور پر ’فادرز ڈے‘ قرار دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت مشرق تک پہنچی اور آج پاکستان میں بھی شہری، خاص طور پر نوجوان نسل، اس دن کو اپنے اپنے انداز میں مناتی ہے۔
خاموشی کی زبان اور قربانی کا سفر
عام طور پر مائیں اپنی محبت کا اظہار کھل کر کر دیتی ہیں، لیکن باپ کی محبت اکثر ’خاموش‘ ہوتی ہے۔ وہ اپنے آنسو چھپا کر بچوں کے سامنے مسکراتا ہے تاکہ گھر کا حوصلہ قائم رہے۔ وہ پرانے کپڑے اور گھسے ہوئے جوتے پہن کر بھی بچوں کو بہترین تعلیمی اداروں اور برانڈز کی چیزیں فراہم کرتا ہے۔ باپ کا یہ ایثار بچوں کے اندر تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔
نفسیاتی اور جذباتی ستون
نفسیاتی ماہرین کے مطابق، جن بچوں کے سر پر والد کا سایہ اور ان کی رہنمائی موجود ہوتی ہے، وہ زندگی کے فیصلے کرنے میں زیادہ پراعتماد اور مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔
باپ کا وجود بچوں کو بیرونی دنیا کے چیلنجز سے لڑنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ وہ صرف ایک نگران نہیں بلکہ ایک رول ماڈل ہوتا ہے جس کے نقشِ قدم پر چل کر اولاد زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھتی ہے۔
بدلتے دور کے تقاضے اور بوڑھے والدین کی دیکھ بھال
آج کے ڈیجیٹل اور تیز ترین دور میں جہاں ہم سوشل میڈیا پر ’ہیپی فادرز ڈے‘ کے اسٹیٹس لگاتے ہیں، وہاں اصل تجزیہ اور ضرورت اس بات کی ہے کہ کیا ہم عملی زندگی میں بھی انہیں وہ وقت اور عزت دے رہے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں؟ جب والد بوڑھے ہو جائیں، تو ان کی باتیں سننا، ان کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کی صحت کا خیال رکھنا ہی اس دن کا اصل پیغام اور حقیقی جشن ہے۔