چینی صدر شی جن پنگ اپنی اہلیہ پینگ لی یوان کے ہمراہ تین روزہ دورے پر امریکا پہنچ گئے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر ان کا غیر معمولی انداز میں استقبال کیا۔
چینی صدر کی آمد کے موقع پر باضابطہ پروٹوکول کے تحت ریڈ کارپٹ بچھایا گیا توپوں کی سلامی دی گئی اور امریکی فضائیہ کے دو B-1 بمبار طیاروں نے فضائی مظاہرہ کیا۔
ٹرمپ نے خود استقبال کیا
شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کی آمد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ رن وے پر موجود تھے۔ دونوں سربراہان مملکت اور ان کی اہلیاؤں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں :آبنائے ہرمز کھلنے پر چینی صدر شی جن پنگ بے حد خوش ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف
استقبالیہ تقریب کے لیے امریکی اور چینی پرچموں کے ساتھ خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ امریکی فوج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دستے بھی تقریب کا حصہ بنے، جبکہ فوجی بینڈ نے امریکا اور چین کے قومی ترانوں کی دھنیں پیش کیں۔
توپوں کی سلامی، فوجی اعزاز
چینی صدر کے استقبال کے موقع پر رسمی فوجی اعزازات بھی پیش کیے گئے۔ تقریب میں توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ فوجی دستوں نے مقررہ پروٹوکول کے تحت چینی صدر کو خوش آمدید کہا۔
اس موقع پر جوائنٹ بیس اینڈریوز کے اوپر امریکی فضائیہ کے دو B-1 بمبار طیاروں کی پرواز بھی ہوئی جس نے استقبالیہ تقریب کو مزید نمایاں بنا دیا۔
B-1 طیاروں کی فضائی نمائش
B-1 بمبار امریکی فضائیہ کے طویل فاصلے تک کارروائی کرنے والے اہم طیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ طیارے تیز رفتاری سے پرواز اور طویل فاصلے تک ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چینی صدر کے استقبال کے دوران ان طیاروں کی پرواز کو تقریب کے فوجی پروٹوکول کا حصہ بنایا گیا۔ تاہم استقبالیہ پروگرام کے بعض حصوں کی مکمل تفصیلات پہلے سے عوام کے سامنے نہیں لائی گئی تھیں۔
اہم معاملات پر بات چیت متوقع
شی جن پنگ کے تین روزہ دورۂ امریکا کے دوران دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم دوطرفہ اور عالمی معاملات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ ان میں تجارتی محصولات، مصنوعی ذہانت، ایران سے متعلق صورتحال اور تائیوان کا معاملہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں :چین سے بڑی خبر آگئی ، چین اور امریکا کے مابین کشیدگی کا خطرہ، چینی صدرکا ٹرمپ کو انتباہ
امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات بھی دونوں صدور کی ملاقات کا اہم موضوع ہوں گے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق گزشتہ سال طے پانے والا تجارتی معاہدہ نومبر میں ختم ہونے والا ہے، جس کے باعث آئندہ مذاکرات میں تجارتی امور پر خصوصی توجہ رہنے کا امکان ہے۔
چھ ماہ میں دوسری ملاقات
شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ تقریباً چھ ماہ کے عرصے میں دوسری براہ راست ملاقات ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے تعلقات تجارت، ٹیکنالوجی، سکیورٹی اور علاقائی معاملات سمیت مختلف موضوعات پر اہمیت رکھتے ہیں۔
واشنگٹن روانگی
استقبالیہ تقریب مکمل ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے چینی صدر کو ان کی گاڑی تک پہنچایا۔ دونوں رہنماؤں نے روانگی سے قبل مختصر گفتگو بھی کی۔ اس کے بعد شی جن پنگ واشنگٹن ڈی سی روانہ ہوگئے جبکہ امریکی صدر اور میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپس چلے گئے۔


