وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے احتجاج کے دوران قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنی، اب اس کے پاس پرامن طور پر منتشر ہونے اور قانون کے دائرے میں رہنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی گروہ کو احتجاج کے نام پر عوامی زندگی متاثر کرنے، خوف و ہراس پھیلانے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کے باعث حالات خراب ہوئے اور قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا، جس کی ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوتی ہے جو لوگوں کو اشتعال انگیزی اور تصادم کی طرف لے کر گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ پرامن اور آئینی طریقے سے مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے، لیکن ریاستی قوانین کی خلاف ورزی، امن و امان کو نقصان پہنچانے اور شہریوں کے معمولات زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم یہ حق آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے استعمال کیا جا سکتا ہے کسی بھی تنظیم یا گروہ کو ایسا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے عام شہری مشکلات کا شکار ہوں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں یا تعلیمی اداروں کا نظام متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ریاستی ادارے مذاکرات اور پرامن حل کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، تاہم قانون شکنی، تشدد یا انتشار پھیلانے کی کوششوں سے سختی سے نمٹا جائے گا،انہوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے پرامن طور پر منتشر ہو، عوام کے مسائل میں اضافہ نہ کرے اور آئینی و قانونی راستہ اختیار کرے۔