امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کے لیے منظم مہم چلائی۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیلی حکومت سے وابستہ بعض عناصر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں بڑے پیمانے پر مہم چلائی اور اس مقصد کے لیے بھاری رقوم خرچ کیں۔
یہ بھی پڑھیں :آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی گئی تو بھرپور جواب دینگے ، جے ڈی وینس
انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت کو متاثر کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچانا تھا۔
جے ڈی وینس کے مطابق امریکا اپنی خارجہ پالیسی اور قومی مفادات کا فیصلہ خود کرتا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا لابنگ کو امریکی فیصلوں پر حاوی نہیں ہونے دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان نے امریکہ اور ایران میں ثالث کا اہم کردار ادا کیا،وال اسٹریٹ جرنل
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پردونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں کی سفارتی کوششوں کے بعد کیے گئے تھے ۔ اس عمل میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کو بحال رکھنے میں اہم کردار نبھایا۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت کشیدگی میں کمی، بحری راستوں کے تحفظ، اعتماد سازی کے اقدامات اور مستقبل میں جامع مذاکرات کے لیے فریم ورک پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت کو خطے میں استحکام کی جانب ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا گیا، جبکہ عالمی برادری نے بھی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کی۔

