امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔
سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کم کرنے، ایران کی مبینہ صلاحیتوں کو مزید محدود کرنے اور گزشتہ رات اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والی ایرانی فورسز کے خلاف فوری کارروائی کے مقصد سے کی گئی ہیں،امریکی کمانڈ نے تاہم فوری طور پر حملوں کے مقامات، اہداف یا نقصانات سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب روسی میڈیا کے مطابق اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایران کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم دیا۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے اور وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر عمل نہیں کرتا تو امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
امریکہ ایران کا اقتصادی محاصرہ جاری رکھے گا ؟جے ڈی وینس کا بڑا دعوی سامنے آ گیا
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے بھی بیان میں کہا کہ امریکی فوجیوں کی قربانی سے امریکا کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور ملک اپنے اہلکاروں کے دفاع کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
تازہ کارروائیوں کے بعد خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی مارکیٹ پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد اپنے فوجیوں اور اتحادیوں کا دفاع اور خطے میں تجارتی راستوں کا تحفظ ہے، جبکہ ایران ماضی میں بھی امریکی اقدامات کو جارحیت قرار دیتا رہا ہے۔
Today at 6 p.m. ET, U.S. forces began launching new airstrikes against Iran at the Commander in Chief’s direction. The strikes are designed to further degrade Iran’s ability to threaten commercial shipping in the Strait of Hormuz and swiftly punish Islamic Revolutionary Guard…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 18, 2026

