وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان قائم تاریخی، نظریاتی اور جذباتی تعلقات کو چیلنج کررہی ہے ۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ قربانیوں، اعتماد اور مشترکہ تاریخ پر قائم ہے، جسے کسی بھی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جا سکتا،سیالکوٹ میں اپنے آبائی علاقے میں منعقدہ ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وہ ایل اے 36 جموں 3 کے امیدوار کی حمایت کے لیے آئے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے کشمیری مہاجرین کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1947ء میں لاکھوں افراد خون کی لکیر عبور کر کے پاکستان پہنچے، جبکہ تقریباً اڑھائی لاکھ لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری مہاجرین کو عزت، احترام اور پناہ فراہم کی اور ان کے ساتھ برادرانہ سلوک کیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ 78 برسوں کے دوران انتخابات میں اختلافات اور سیاسی تنازعات سامنے آتے رہے، لیکن اب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذریعے پاکستان میں آباد مہاجرین کے معاملے کو ایک اہم سیاسی ایشو بنایا جا رہا ہے،اس طرزِ عمل سے ایسے تاثر کو تقویت مل رہی ہے جو پاکستان اور آزاد کشمیر کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ایک گروہ نے ماضی میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور وفاقی حکومت کو بلیک میل کر کے 25 ارب روپے حاصل کیے، جبکہ اب یہی گروہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے تاریخی رشتے کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی جائے، بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور عوامی مسائل، خصوصاً نکاسی آب، سڑکوں اور دیگر بنیادی ضروریات کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ عوام کو عملی ریلیف مل سکے۔