پاکستان میں کریڈٹ کارڈز کی تعداد اور اے ٹی ایم استعمال میں ایک ہی سہ ماہی کے دوران غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان کی کریڈٹ کارڈ مارکیٹ میں اچانک اور غیرمعمولی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں صرف 3 ماہ کے دوران زیر گردش کریڈٹ کارڈز کی تعداد میں 853,788 کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے اے ٹی ایم پر ہونے والے لین دین کی مالیت بھی تقریباً 6 گنا بڑھ گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ نظرثانی شدہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 کے اختتام پر ملک میں کریڈٹ کارڈز کی تعداد 2,215,081 تھی، جو ستمبر 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 3,068,869 ہوگئی۔
اس طرح ایک سہ ماہی میں حقیقی اضافہ 853,788 یا تقریباً 38.5 فیصد بنتا ہے۔ بعض شائع شدہ رپورٹس میں اسے تقریباً 900,000 اور 44 فیصد اضافہ قرار دیا گیا، تاہم نظرثانی شدہ سرکاری اعداد کے حساب سے شرح تقریباً 38.5 فیصد بنتی ہے۔
یہ اضافہ اس لیے بھی غیرمعمولی سمجھا جا رہا ہے کہ گزشتہ تقریباً 6 سال میں کریڈٹ کارڈز کی مجموعی تعداد 1.6 ملین سے بڑھ کر تقریباً 2.2 ملین تک پہنچی تھی، لیکن مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں صرف 3 ماہ کے دوران تقریباً اتنے ہی نئے کارڈز نظام میں شامل ہوگئے جتنے کئی سال میں شامل ہوئے تھے۔
اے ٹی ایم پر کریڈٹ کارڈ استعمال میں تیز اضافہ
گیلپ پاکستان کے ڈیجیٹل تجزیاتی ڈیش بورڈ پر مبنی رپورٹ کے مطابق اسی مدت میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے اے ٹی ایم پر ہونے والے لین دین کی مالیت تقریباً 6 گنا بڑھ گئی۔
تاہم اسٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی میں کریڈٹ کارڈز کے ذریعے مجموعی طور پر 35.9 ملین لین دین ہوئے، جن میں تقریباً 1.1 ملین اے ٹی ایم، 28.8 ملین پوائنٹ آف سیل مشینوں اور 6 ملین ای کامرس پلیٹ فارمز پر کیے گئے۔
کریڈٹ کارڈ سے اے ٹی ایم کے ذریعے نقد رقم حاصل کرنا عام خریداری کے مقابلے میں زیادہ مہنگا پڑ سکتا ہے کیونکہ اس پر کیش ایڈوانس فیس اور فوری مالی چارجز عائد ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
گیلپ پاکستان کے ایک الگ تجزیے میں بھی کہا گیا کہ پاکستان میں کریڈٹ کارڈ سے نقد رقم نکلوانے کا مجموعی استعمال عام طور پر محدود رہا ہے اور ایک سہ ماہی میں اس کی مالیت صرف 1.6 ملین روپے تک بھی ریکارڈ کی گئی تھی۔
اس لیے 6 گنا اضافے کو صرف شرح کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائے اصل مالیت اور ابتدائی بنیاد کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ اگر ابتدائی مالیت بہت کم ہو تو معمولی عددی اضافہ بھی شرح کے لحاظ سے کئی گنا دکھائی دے سکتا ہے۔
کوئی بڑا بینکنگ منصوبہ سامنے نہیں آیا
اس غیرمعمولی اضافے کے باوجود اس مدت کے دوران کسی بڑے بینک، مالیاتی ٹیکنالوجی ادارے یا دوسری مالی کمپنی کی جانب سے تقریباً 900,000 کریڈٹ کارڈز جاری کرنے کی کسی بڑی عوامی مہم کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
اسٹیٹ بینک نے بھی تاحال یہ وضاحت جاری نہیں کی کہ یہ اضافہ حقیقی طور پر لاکھوں نئے صارفین کو کارڈز جاری کرنے سے ہوا، پہلے سے موجود مصنوعات کی درجہ بندی تبدیل کی گئی یا مالیاتی اداروں کی رپورٹنگ میں کسی قسم کی نظرثانی کی گئی۔
یہی خاموشی اس معاملے کو محض ایک کاروباری کامیابی کے بجائے ایک اہم ڈیٹا اور ریگولیٹری سوال میں تبدیل کرتی ہے۔
اگلی سہ ماہیوں میں رفتار اچانک کم ہوگئی
اس معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پہلی سہ ماہی کی بڑی چھلانگ بعد کی سہ ماہیوں میں جاری نہیں رہی۔
ستمبر 2025 کے اختتام پر کریڈٹ کارڈز کی تعداد 3,068,869 تھی، جو دسمبر 2025 تک صرف 42,184 بڑھ کر 3,111,053 ہوگئی۔ مارچ 2026 تک مزید صرف 22,939 کارڈز شامل ہوئے اور مجموعی تعداد 3,133,992 تک پہنچی۔
اس طرح جون 2025 سے مارچ 2026 تک ہونے والے مجموعی اضافے کا تقریباً 93 فیصد صرف پہلی سہ ماہی میں سامنے آیا۔
یہ رجحان اس امکان کو مضبوط بناتا ہے کہ پہلی سہ ماہی کی چھلانگ مکمل طور پر معمول کی کاروباری نمو نہیں تھی بلکہ اس میں کسی ‘ایک بار کی درجہ بندی’، سابقہ ڈیٹا کی درستی، کسی بڑے کارڈ پورٹ فولیو کی منتقلی یا نئی مصنوعات کو کریڈٹ کارڈ کے زمرے میں شامل کرنے کا کردار ہوسکتا ہے۔
یہ ایک تجزیاتی امکان ہے، حتمی حقیقت نہیں، کیونکہ اسٹیٹ بینک یا متعلقہ بینکوں کی وضاحت ابھی سامنے نہیں آئی۔
پاکستان میں مجموعی کارڈ مارکیٹ
مالی سال26-2025 کی پہلی سہ ماہی کے نظرثانی شدہ اعداد کے مطابق پاکستان میں مجموعی ادائیگی کارڈز کی تعداد تقریباً 61.1 ملین تھی۔
ان میں، ڈیبٹ کارڈز کی تعداد 54.8 ملین تھی، جو مجموعی کارڈز کا تقریباً 89.7 فیصد بنتی ہے۔ کریڈٹ کارڈز کی تعداد تقریباً 3.07 ملین تھی، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 5 فیصد بنتی ہے اور سماجی بہبود کے کارڈز کی تعداد تقریباً 3.13 ملین جبکہ پری پیڈ کارڈز کی تعداد تقریباً 114,666 تھی۔
اس طرح ڈیبٹ کارڈز اب بھی پاکستان کی کارڈ مارکیٹ پر واضح طور پر غالب ہیں۔ کریڈٹ کارڈز میں اچانک اضافے کے باوجود ان کا مجموعی مارکیٹ میں حصہ محدود ہے۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کا وسیع تر پس منظر
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان میں مجموعی خوردہ ادائیگیوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 2.8 ارب ہوگئی، جن کی مالیت تقریباً 166 ٹریلین روپے تھی۔
ان میں تقریباً 2.5 ارب لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے کیے گئے، جس کے بعد مجموعی خوردہ ادائیگیوں میں ڈیجیٹل ذرائع کا حصہ تقریباً 90 فیصد تک پہنچ گیا۔ اسی سہ ماہی میں اے ٹی ایم نیٹ ورک نے تقریباً 267 ملین لین دین نمٹائے، جن کی مالیت تقریباً 4.5 ٹریلین روپے تھی۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر کا بڑا فیصلہ ،کاروباری شعبہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ سے خریداری کرے گا
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل بینکاری تیزی سے پھیل رہی ہے، تاہم ڈیجیٹل لین دین کا بڑا حصہ کریڈٹ کارڈ کے بجائے بینک کھاتوں، ڈیبٹ کارڈز، موبائل بینکاری، ڈیجیٹل بٹووں اور فوری ادائیگی کے نظام کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
گیلپ پاکستان کے ایک تجزیے کے مطابق ای کامرس میں بھی کریڈٹ کارڈز کا تناسب بڑھنے کے بجائے ڈیبٹ کارڈز اور مقامی ادائیگی ذرائع کے مقابلے میں کم ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی ای کامرس مارکیٹ بنیادی طور پر صارفین کے دستیاب بینک بیلنس سے چل رہی ہے، قرض پر مبنی خریداری سے نہیں۔
صارفین کے قرض میں بھی اضافہ
پاکستان اقتصادی سروے کے حوالے سے شائع ہونے والے اعداد کے مطابق جولائی سے مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی صارف مالیات کا بہاؤ بڑھ کر 146.2 ارب روپے تک پہنچا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 71.4 ارب روپے تھا۔
اسی مدت میں کریڈٹ کارڈز سے متعلق خالص مالیاتی بہاؤ 18.3 ارب روپے سے بڑھ کر 39 ارب روپے ہوگیا، جبکہ واجب الادا کریڈٹ کارڈ قرضوں میں تقریباً 24.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ کریڈٹ کارڈز کی تعداد میں اضافے کے ساتھ صارفین کی جانب سے قرض کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا۔ تاہم کارڈز کی تعداد میں تقریباً 39 فیصد کی اچانک سہ ماہی چھلانگ، بعد کی سست رفتار کے باعث اب بھی الگ وضاحت کی محتاج ہے۔
کریڈٹ کارڈز کی تعداد میں اضافہ بظاہر پاکستان میں مالی شمولیت، دستاویزی معیشت اور جدید ادائیگی ذرائع کے فروغ کی مثبت علامت ہے۔ زیادہ کارڈز کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ زیادہ صارفین رسمی بینکاری نظام میں داخل ہو رہے ہیں اور نقد ادائیگیوں کے بجائے قابل سراغ ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔ لیکن زیر بحث اعداد میں اصل سوال اضافہ نہیں بلکہ اضافے کی رفتار اور وقت ہے۔
اگر واقعی تقریباً 854,000 نئے صارفین کو صرف 3 ماہ میں کریڈٹ کارڈز جاری کیے گئے تو یہ پاکستان کی بینکاری تاریخ کی ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ایسی صورت میں متعلقہ بینکوں کے مالی نتائج، اشتہاری مہمات، نئے صارفین کے اعداد اور کریڈٹ کارڈ قرضوں میں بھی اسی پیمانے کی نمایاں تبدیلی دکھائی دینی چاہیے۔
اسٹیٹ بینک کو معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کم از کم یہ معلومات جاری کرنی چاہییں کہ نئے کارڈز کس بینک یا ادارے نے جاری کیے؟ کتنے کارڈز فعال اور کتنے غیر فعال ہیں؟ کیا نئے کارڈز منفرد صارفین کو جاری ہوئے یا ایک صارف کے نام متعدد کارڈز شامل ہیں؟
کیا کسی کارڈ مصنوعات کی درجہ بندی ڈیبٹ، پری پیڈ یا کسی دوسرے زمرے سے کریڈٹ میں منتقل کی گئی؟ کریڈٹ کارڈز کے واجب الادا قرض، تاخیر سے ادائیگی اور نادہندگی کی شرح کیا ہے؟ اے ٹی ایم سے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے نکالی گئی نقد رقم کی حقیقی مالیت کتنی تھی؟
جب تک یہ تفصیلات سامنے نہیں آتیں، اسے مکمل طور پر مالی شمولیت کی کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
اے ٹی ایم لین دین کی مالیت میں 6 گنا اضافہ بھی محتاط تجزیے کا تقاضا کرتا ہے۔ کریڈٹ کارڈ سے نقد رقم نکلوانا مہنگا قرض ہوسکتا ہے۔ اگر صارفین روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے کریڈٹ کارڈ سے نقد رقم لے رہے ہیں تو یہ آمدنی پر دباؤ، گھریلو مالی مشکلات یا قلیل مدتی قرض پر بڑھتے انحصار کی علامت ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب اگر اضافہ صرف انتہائی کم ابتدائی بنیاد، ڈیٹا کی اصلاح یا کسی نئی کارڈ مصنوعات کی درجہ بندی کے باعث ہوا ہے تو اسے صارفین کے رویے میں بڑی تبدیلی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
مجموعی طور پر یہ اضافہ پاکستان کی ادائیگی مارکیٹ میں ایک اہم تبدیلی ضرور ہے، لیکن موجودہ اعداد جوابات سے زیادہ سوالات پیدا کر رہے ہیں۔