خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل پیمنٹس ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل ادائیگیوں پر صارفین سے کسی بھی قسم کے اضافی چارجز لینا ممنوع ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ڈیجیٹل پیمنٹس ایکٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد یہ بل کابینہ کی منظوری کے لیے بھی بھیج دیا جائے گا۔ اس قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا ڈیجیٹل معیشت کے لیے قانونی فریم ورک متعارف کرانے والا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔
قانون کے مطابق حکومت، کاروباری اداروں اور سروس سیکٹر میں QR کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ رجسٹرڈ کاروباروں پر دو سال تک ڈیجیٹل پیمنٹس پر کوئی نیا سیلز ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔
قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ صارف سے ڈیجیٹل ادائیگی پر اضافی چارجز وصول کرنا ممنوع ہوگا، اور اس سے انکار کرنے والا کاروبار قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب سمجھا جائے گا۔
ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے ذریعے شفافیت، سہولت اور مالی تحفظ میں اضافہ ہوگا جبکہ صارفین اور کاروباروں کے ڈیٹا کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔ عوامی سہولت کے لیے بازاروں میں پبلک وائی فائی اور دیگر ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ تعلیمی نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی شامل کی جائے گی اور آن بورڈنگ کے عمل کو آسان بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک میں کیش لیس معیشت کا ماڈل بن کر وفاق اور دیگر صوبوں کو رہنمائی فراہم کرے گا، اور یہ بل مالی شمولیت، شفافیت اور معیشت کی جدید کاری کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔