انتہا پسند مودی حکومت تعلیم سمیت عوامی زندگی کے تمام شعبوں کوہندوتوا نظریے کےتحت ڈھالنے کے ایجنڈے پرقائم ہے۔
بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی برطرفی کو ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے تعلیمی ایجنڈے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق مودی حکومت تعلیم سمیت عوامی زندگی کے مختلف شعبوں کو ہندوتوا نظریے کے مطابق ڈھالنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے، تاہم وزیرِ تعلیم کی برطرفی سے اس منصوبے کواہم نقصان پہنچا ہے۔
بھارتی جریدے ’دی وائر‘ کے مطابق دھرمیندر پردھان مودی حکومت میں آر ایس ایس کے وسیع تر ہندوتوا تعلیمی منصوبے کے اہم کردار سمجھے جاتے تھے۔
جریدے کا کہنا ہے کہ ان کی برطرفی نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بلکہ آر ایس ایس کے طویل المدتی نظریاتی منصوبے کے لیے بھی ایک بڑی ناکامی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس سے وابستہ دھرمیندر پردھان کو سنگھ پریوار کے تعلیمی ایجنڈے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ مودی دورِ حکومت میں تعلیم کو ترقی کے بجائے ہندوتوا نظریے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
دوسری جانب، بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا اتحاد ملک کے مسلمہ اور خودمختار تعلیمی اداروں کی آزادی کو سلب کر کے تعلیمی نظام کو تباہ و برباد کرنے کی مسلسل سازش کر رہا ہے۔