وفاقی آئینی عدالت میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے منسوب مبینہ رہائی فورس کے قیام کے خلاف دائر آئینی درخواست پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے جس میں درخواست کو بے بنیاد قبل از وقت اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کبھی قائم ہی نہیں ہوئی جبکہ اس سے قبل رہائی فورس کے قیام، رضاکاروں کی رجسٹریشن ممبرشپ مہم اور اس سے متعلق اعلانات میڈیا اور سوشل میڈیا پر منظر عام پر آ چکے تھے۔ عدالت میں جمع کرائے گئے موجودہ جواب کو ان سابقہ اعلانات سے مختلف مؤقف قرار دیا جا رہا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے ذریعے جمع کرائے گئے آٹھ صفحات پر مشتمل جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کے نام سے کبھی کوئی تنظیم یا فورس قائم نہیں کی گئی۔ جواب کے مطابق حقیقت میں بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کے نام سے ایک پرامن غیر مسلح اور رضاکارانہ عوامی تحریک موجود ہے جس کا مقصد آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ہے۔
وزیراعلیٰ کے جواب میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تحریک میں کسی قسم کا مسلح ڈھانچہ نجی ملیشیا یا عسکری تربیت کا کوئی وجود نہیں لہٰذا اسے نجی مسلح تنظیم قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے محض قیاس آرائیوں اور غلط بیانی کی بنیاد پر عدالت سے رجوع کیا ہے اور وہ کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی یا امن و امان کو لاحق حقیقی خطرے کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
جواب میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ تحریک کو آئین کے آرٹیکل 16 17 اور 19 کے تحت اجتماع تنظیم سازی اور اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ حاصل ہے جبکہ آرٹیکل 256 جو نجی مسلح تنظیموں سے متعلق ہے اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتا۔ اسی طرح پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشنز ایکٹ 1973ء کا اطلاق بھی اس تحریک پر نہیں ہوتا کیونکہ یہ کسی بھی لحاظ سے مسلح یا عسکری تنظیم نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے جواب میں یہ بھی کہا کہ اس پرامن تحریک کا ماضی کی کسی مسلح تنظیم یا نجی ملیشیا سے موازنہ کرنا نہ صرف غیر مناسب بلکہ گمراہ کن ہے۔ امن عامہ کو خطرات سے متعلق تمام الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست میں پیش کیے گئے خدشات مفروضوں پر مبنی ہیں جن کی کوئی قانونی یا عملی بنیاد موجود نہیں۔
جواب میں وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آئینی درخواست کو ابتدائی مرحلے پر ہی ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کیا جائے۔ ساتھ ہی عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کو آئین اور قانون کے مطابق ایک جائز اور پرامن سیاسی سرگرمی قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے اس مقدمے میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے جواب طلب کر رکھا تھا جبکہ بانی پی ٹی آئی کی مبینہ رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست کی باقاعدہ سماعت 29 جولائی کو مقرر ہے جہاں عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔