خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں تمام گاڑیوں کی نمبر پلیٹس تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت نئی نمبر پلیٹس میں ریڈیو فریکونسی آئیڈنٹیفیکیشن (آر ایف آئی ڈی) سسٹم کے اسٹیکرز نصب کیے جائیں گے۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق یہ فیصلہ صوبے کی تمام سرکاری اور نجی گاڑیوں پر لاگو ہوگا، یعنی کوئی بھی گاڑی اس نئے نظام سے مستثنیٰ نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق گاڑیوں کی موجودہ نمبر پلیٹس صوبائی حکومت 1,200 روپے میں فراہم کرتی ہے، جبکہ آر ایف آئی ڈی اسٹیکر والی نئی نمبر پلیٹس کی قیمت 4 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان جدید اسٹیکرز کی بدولت گاڑیوں کی شناخت اور ٹریکنگ ممکن ہو سکے گی، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشکوک یا مطلوب گاڑیوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔
خیبرپختونخوا میں گاڑیوں کی رجسٹریشن میں مسلسل تبدیلیاں
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کا محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول گزشتہ کچھ عرصے سے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس کے نظام میں مسلسل اصلاحات متعارف کروا رہا ہے۔
اس سے قبل صوبے میں ایک ایسا ڈیجیٹل نظام بھی متعارف کرایا گیا تھا جس کے تحت نمبر پلیٹ گاڑی کی بجائے مالک کے شناختی کارڈ سے منسلک ہوتی ہے اور گاڑی فروخت ہونے کی صورت میں بھی مالک اپنا منتخب نمبر 3 سال تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد جعلی نمبر پلیٹس اور رجسٹریشن ایجنٹ مافیا کا خاتمہ بتایا گیا تھا۔
اسی طرح پنجاب حکومت نے بھی حال ہی میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس دوبارہ سرکاری سطح پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس میں بھی آر ایف آئی ڈی چپ کی تنصیب شامل تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں صوبائی حکومتیں گاڑیوں کی نگرانی کے جدید ڈیجیٹل نظام کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
سیکیورٹی بہتر مگر شہریوں پر مالی بوجھ کا امکان
ماہرین کے مطابق آر ایف آئی ڈی بیسڈ نمبر پلیٹس کا نفاذ گاڑیوں کی چوری، جعلی رجسٹریشن اور جرائم میں ملوث گاڑیوں کی نشاندہی کے لیے ایک مؤثر اقدام ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے متعلقہ ادارے کسی بھی گاڑی کی مکمل تفصیلات فوری طور پر حاصل کر سکیں گے۔
تاہم دوسری جانب موجودہ 1,200 روپے کی نمبر پلیٹ کے مقابلے میں نئی پلیٹ کی قیمت 4 ہزار روپے مقرر کیے جانے سے عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جن کے پاس ایک سے زیادہ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔
حکومت کو اس نئے نظام کے نفاذ کے دوران عمل درآمد کی شفافیت اور عوامی سہولت کو بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ یہ اصلاحات محض اضافی محصولات جمع کرنے کا ذریعہ نہ بن جائیں۔
اپر سوات میں کشتیوں کے حادثات کے پیش نظر جامع سیفٹی سروے کا فیصلہ
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر کشتیوں کے ڈوبنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ اپر سوات نے علاقے میں چلنے والی کشتیوں کا جامع سیفٹی سروے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سروے کا دائرہ کار
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سروے کے دوران یہ جانچا جائے گا کہ کون سی کشتیاں حفاظتی معیار پر پوری اترتی ہیں اور کن کشتیوں کے استعمال سے سیاحوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
سروے مختلف سیاحتی مقامات پر چلنے والی تمام کشتیوں کا احاطہ کرے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ جو کشتیاں مقررہ حفاظتی معیار پر پورا نہیں اتریں گی، ان کے آپریشن پر باضابطہ پابندی عائد کر دی جائے گی۔
سیاحتی مقامات پر حادثات کا سلسلہ
اپر سوات سمیت خیبرپختونخوا کے متعدد سیاحتی مقامات میں دریاؤں اور جھیلوں میں کشتی رانی مقامی سیاحتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے، تاہم غیرمعیاری اور فرسودہ کشتیوں کے استعمال کے باعث حادثات کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سیاحوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر بعض کشتی مالکان حفاظتی تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے زائد لوڈ کے ساتھ کشتیاں چلاتے ہیں، جو حادثات کی بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔
احتیاطی اقدام مگر عمل درآمد اصل چیلنج
ماہرین کے نزدیک یہ سروے ایک درست سمت میں اٹھایا گیا احتیاطی قدم ہے، تاہم اصل چیلنج اس سروے کے نتائج پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔
ماضی میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کا اعلان کیا جاتا رہا ہے، مگر مقامی سطح پر روزگار سے وابستہ کشتی مالکان کے دباؤ اور نگرانی کے فقدان کے باعث پابندیوں پر عمل درآمد اکثر کمزور رہا ہے۔
اگر انتظامیہ اس بار سختی سے معیار برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ اقدام سیاحوں کی حفاظت کے لیے دیرپا نتائج دے سکتا ہے۔