سورج کی تاریخ کی واضح ترین تصاویر سامنے آگئیں

سورج کی تاریخ کی واضح ترین تصاویر سامنے آگئیں

سورج کی طرف براہ راست دیکھنا انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں، جبکہ اس کی انتہائی واضح تصاویر حاصل کرنا سائنسدانوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ تاہم اب دنیا کی طاقتور ترین سولر ٹیلی اسکوپ نے سورج کی سطح کی اب تک کی سب سے تفصیلی تصاویر ریکارڈ کر لی ہیں۔

امریکی ریاست ہوائی میں نصب انوئے سولر ٹیلی اسکوپ نے یہ حیرت انگیز تصاویر حاصل کی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دنیا کی جدید ترین سولر ٹیلی اسکوپ ہے، جو سورج کی سطح اور اس کے مقناطیسی میدانوں کا غیر معمولی باریکی سے مشاہدہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چاند سے اسپیس ایکس راکٹ کی ٹکر، زمین پر کیا اثرات ہوں گے؟

نئی تصاویر میں سورج کی سطح پر پروں سے مشابہ ایک منفرد پیٹرن نمایاں ہوا ہے، جسے سائنسدان سورج کے طاقتور مقناطیسی میدان اور گرم پلازما کی حرکت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدات اس معمہ کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں جس نے کئی دہائیوں سے سائنسدانوں کو الجھا رکھا ہے، یعنی سورج کی بیرونی فضا (کورونا) اس کی سطح کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ گرم کیوں ہوتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ اب تک حاصل ہونے والی سب سے ہائی ریزولوشن تصاویر ہیں، جن میں سورج کی سطح پر ہونے والے انتہائی باریک اور پیچیدہ عمل پہلی بار اتنی وضاحت سے دکھائی دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :کیا نایاب کتابیں بھی اے آئی کی نذر ہو رہی ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

اس سے قبل بھی اسی ٹیلی اسکوپ نے سورج کی سطح پر ریت جیسے نظر آنے والے دیوہیکل ڈھانچوں کی نشاندہی کی تھی، جن میں سے ہر ایک کا حجم تقریباً فرانس کے رقبے کے برابر تھا، مگر نئی تصاویر نے ان ساختوں کی مزید باریک تفصیلات بھی آشکار کر دی ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے سورج کی سطح پر تیزی سے حرکت کرنے والے پلازما کے ایک خاص پیٹرن کی بھی نشاندہی کی، جسے کیلون، ہیلم ہولٹز عدم استحکام کہا جاتا ہے۔ یہ مظہر اس سے قبل زمین پر جھیلوں، سمندروں، بادلوں اور نظامِ شمسی کے سیاروں مشتری اور زحل میں دیکھا جا چکا تھا، لیکن سورج میں پہلی بار اس کی موجودگی کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :واٹس ایپ مین چیٹ لسٹ کو صاف رکھنے کے لیے نیا فیچر لے آیا

ماہرین کے مطابق سورج کی مقناطیسی سرگرمیاں زمین پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ یہی سرگرمیاں بجلی کے گرڈز، سیٹلائٹس، جی پی ایس نظام اور عالمی مواصلاتی نیٹ ورکس کو متاثر کر سکتی ہیں۔ سورج کے مقناطیسی میدان اس کے انتہائی گرم پلازما سے بنتے ہیں، تاہم سائنسدان اب تک مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے کہ یہ میدان اچانک اتنی بڑی مقدار میں توانائی کیوں خارج کرتے ہیں۔

نئی تصاویر سے حاصل ہونے والے شواہد اس راز کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سورج کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 6 ہزار ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جبکہ اس کی بیرونی فضا، یعنی کورونا، کا درجہ حرارت لاکھوں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، اور اب سائنسدان اس حیران کن فرق کی ممکنہ وجہ جاننے کے مزید قریب آ گئے ہیں۔

editor

Related Articles