خلائی کمپنی اسپیس ایکس کا ایک راکٹ تقریباً ڈیڑھ سال تک خلا میں گردش کرنے کے بعد بالآخر چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے زمین کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں، تاہم سائنسی تحقیق کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فالکن 9 راکٹ کا بالائی حصہ، جو تقریباً پانچ منزلہ عمارت جتنا بڑا اور چار ہزار کلوگرام وزنی تھا، چاند سے جا ٹکرایا۔
یہ راکٹ جنوری 2025 میں امریکا اور جاپان کے مشترکہ قمری مشن کے تحت لانچ کیا گیا تھا۔ مشن کی تکمیل کے بعد راکٹ کا بالائی حصہ خلا میں ہی موجود رہا اور تقریباً ڈیڑھ سال تک بے مقصد گردش کرتا رہا۔
ماہرین کے مطابق چاند اور سورج کی کششِ ثقل نے وقت کے ساتھ اس کا راستہ تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں وہ بالآخر چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق راکٹ کا پہلا حصہ لانچ کے فوراً بعد زمین پر واپس آ گیا تھا، جبکہ دوسرا حصہ خلائی مشن کو چاند کی جانب روانہ کرنے کے لیے استعمال ہوا اور بعد میں خلا میں ہی رہ گیا۔
اسپیس ایکس میں ناسا سائنس اور ڈریگن پروگرامز کی ڈائریکٹر جولیانا شیمین کے مطابق زمین کے قریب مدار میں بھیجے جانے والے زیادہ تر مشنز کے بعد راکٹ کے بالائی حصے کو زمین کی فضا میں داخل کر کے جلا دیا جاتا ہے، لیکن زیادہ توانائی والے مشنز میں ایسا کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ اس مشن میں تمام حفاظتی اصولوں پر عمل کیا گیا تھا، تاہم سورج کی سرگرمیوں اور کششِ ثقل کے مشترکہ اثرات کے باعث راکٹ کا راستہ تبدیل ہو گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصادم سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں، تاہم اس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا چاند کی سطح، خلائی ملبے کی حرکت اور مستقبل کے خلائی مشنز کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔