پنجاب میں پرائمری تعلیم کا نظام تبدیل ، تاریخی فیصلہ ہوگیا

پنجاب میں پرائمری تعلیم کا نظام تبدیل ، تاریخی فیصلہ ہوگیا

پنجاب میں پرائمری سطح پر تدریس کے نظام میں اہم تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے پہلی سے پانچویں جماعت تک طلبہ کے لیے روایتی نصابی کتابوں کے بجائے ایکٹیویٹی بیسڈ کتابیں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئی طرز کی کتابوں کے ذریعے بچوں کو محض کتابی مواد یاد کروانے کے بجائے سرگرمیوں، عملی مشقوں اور تخلیقی طریقوں سے تعلیم دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

پیکٹا حکام کے مطابق نئی کتابیں 2027 کے نئے تعلیمی سیشن سے پنجاب کے پرائمری طلبہ کے لیے متعارف کرائی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے نئے کریکولم کے مطابق کتابوں کی تیاری کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ نصاب اور تدریسی مواد کو بچوں کی عمر، ذہنی استعداد اور سیکھنے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق پنجاب میں پہلی مرتبہ پرائمری سطح پر پانچویں جماعت تک ایکٹیویٹی بیسڈ تعلیمی نظام کو باقاعدہ طور پر متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ نئے نظام میں روایتی لیکچر اور صرف کتاب پڑھنے کے طریقہ کار کے بجائے بچوں کو مختلف سرگرمیوں میں شامل کرکے سبق سمجھانے پر زور دیا جائے گا۔

رٹہ سسٹم سے نجات تخلیقی صلاحیتوں پر توجہ

پیکٹا حکام کا کہنا ہے کہ نئے نظام کا بنیادی مقصد طلبہ کو رٹہ سسٹم سے نکال کر سمجھ بوجھ، عملی قابلیت اور تخلیقی صلاحیتوں کی طرف لے جانا ہے۔ بچوں کو اس انداز میں تعلیم دی جائے گی کہ وہ صرف سوالات کے جوابات یاد نہ کریں بلکہ اپنے علم کو عملی زندگی کے مسائل اور روزمرہ معاملات سے بھی جوڑ سکیں۔

ایکٹیویٹی بیسڈ کتابوں میں ایسے اسباق اور مشقیں شامل کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے جن کے ذریعے بچے خود مشاہدہ، تجربہ، سوال و جواب اور مختلف عملی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھ سکیں۔ اس طریقہ تدریس سے طلبہ میں مسئلہ حل کرنے، سوچنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں سے متعلق بڑی خبر آ گئی

اساتذہ کا کردار بھی تبدیل ہوگا

نئے نظام کے تحت صرف کتابوں کا انداز ہی تبدیل نہیں ہوگا بلکہ پرائمری سطح پر اساتذہ کے تدریسی کردار میں بھی تبدیلی متوقع ہے۔ استاد محض کتاب پڑھانے یا سبق یاد کروانے کے بجائے بچوں کو سرگرمیوں میں شامل کرنے اور ان کی رہنمائی کرنے پر توجہ دے گا۔

نئے طریقہ تدریس میں کلاس روم میں گروپ ورک، عملی مشقیں، مشاہداتی سرگرمیاں، سوال و جواب اور مختلف تعلیمی سرگرمیوں کو زیادہ اہمیت دی جائے گی تاکہ بچے کلاس میں فعال طور پر حصہ لے سکیں۔

نصاب کو عملی زندگی سے جوڑنے کی کوشش

پیکٹا حکام کے مطابق نئی کتابوں کی تیاری میں اس بات کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے کہ بچوں کو نصابی مواد کو روزمرہ زندگی کے ساتھ جوڑ کر سمجھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے کتابوں میں ایسی سرگرمیاں شامل کی جائیں گی جنہیں بچے کلاس روم کے علاوہ گھر اور اپنے اردگرد کے ماحول میں بھی انجام دے سکیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے بچوں میں سیکھنے کا عمل زیادہ دلچسپ اور مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ طلبہ اپنی حاصل کردہ معلومات کو عملی طور پر استعمال کرنا بھی سیکھیں گے۔

2027 سے باقاعدہ آغاز

پیکٹا حکام کے مطابق نئے کریکولم کے تحت ایکٹیویٹی بیسڈ کتابوں کی تیاری کا کام شروع کردیا گیا ہے کتابوں کی تیاری اور متعلقہ مراحل مکمل ہونے کے بعد 2027 کے نئے تعلیمی سال سے پانچویں جماعت تک طلبہ کے لیے نئے نظام کے تحت تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اس اقدام کو پرائمری تعلیم کے معیار میں بہتری اور جدید تدریسی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے نظام کے نتائج کا انحصار جہاں معیاری کتابوں کی تیاری پر ہوگا، وہیں اساتذہ کی تربیت، کلاس روم میں عملی نفاذ اور طلبہ کو مناسب تعلیمی سہولیات کی فراہمی بھی انتہائی اہم ہوگی۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر ایکٹیویٹی بیسڈ نظام کو مؤثر منصوبہ بندی اور مناسب اساتذہ کی تربیت کے ساتھ نافذ کیا گیا تو اس سے پرائمری سطح پر بچوں کے سیکھنے کے انداز میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور انہیں ابتدائی عمر ہی سے رٹہ لگانے کے بجائے سمجھنے، سوچنے، تجربہ کرنے اور تخلیقی انداز میں سیکھنے کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles