پیرو کے بلند و بالا اینڈیز پہاڑوں میں قدیم تہذیبوں نے پہاڑی ڈھلوانوں کو بڑے بڑے سیڑھی نما حصوں میں تبدیل کردیا تھا۔ دور سے دیکھنے پر یہ وسیع ساختیں ایسی دکھائی دیتی ہیں جیسے کسی نے پورے پہاڑ پر دیوہیکل سیڑھیاں تعمیر کردی ہوں۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ دراصل زرعی ٹیرسز تھے، جنہیں پہاڑی علاقوں میں قابل کاشت زمین حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا۔ ان کا مقصد پانی کے بہاؤ کو قابو کرنا، مٹی کے کٹاؤ کو روکنا اور مختلف بلندیوں پر فصلیں اگانے کے لیے موزوں حالات پیدا کرنا تھا۔
ان قدیم ساختوں کا حجم واقعی حیران کن ہے۔ جب لوگ ان کے مختلف درجوں پر کھڑے ہوتے ہیں تو ہر سطح ایک عام زرعی ٹیرس کے بجائے کسی دیوہیکل سیڑھی کے ایک قدم جیسی دکھائی دیتی ہے۔
اسی غیر معمولی منظر نے کچھ لوگوں کو ایک مختلف خیال پیش کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔ قدیم اینڈین روایات میں دیو قامت انسانوں اور طاقتور مخلوقات سے متعلق کہانیاں ملتی ہیں، جس کی بنیاد پر متبادل تاریخ کے بعض حامی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایسی عظیم الشان تعمیرات کا کوئی ایسا مقصد بھی ہوسکتا ہے جسے آج ہم بھول چکے ہیں؟
تاہم اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ آثار قدیمہ میں کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ یہ ٹیرسز دیو قامت مخلوقات کے لیے بنائے گئے تھے۔ اس کے برعکس دستیاب شواہد انہیں قدیم زرعی انجینئرنگ کی ایک شاندار مثال قرار دیتے ہیں، جس کے ذریعے پہاڑی علاقوں میں زمین، پانی اور موسم کے چیلنجز سے نمٹا جاتا تھا۔
یوں پیرو کے پہاڑوں پر موجود یہ دیوہیکل سیڑھی نما ساختیں اگرچہ دیکھنے میں پراسرار محسوس ہوتی ہیں، لیکن موجودہ سائنسی اور آثار قدیمہ کے شواہد انہیں قدیم انسانوں کی غیر معمولی انجینئرنگ اور زرعی مہارت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔