نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی، نادرا نے پاکستانی شہریوں کے لیے چِپ کے بغیر نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرادیا ہے، جس میں روایتی مائیکرو چِپ کی جگہ محفوظ QR کوڈ استعمال کیا گیا ہے۔
نیا شناختی کارڈ پاکستان میں نیشنل سیکیورٹی پرنٹنگ کمپنی، کراچی نے نادرا کی مقرر کردہ سیکیورٹی اور تکنیکی ضروریات کے مطابق تیار کیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد شناختی کارڈ کے لیے درآمد شدہ مائیکرو چِپ پر انحصار ختم ہوجائے گا۔
حکومت نے نئے شناختی کارڈ کے اجرا کی منظوری 23 فروری 2026 کو دی تھی۔ QR کوڈ کو اسمارٹ فون کے ذریعے نادرا کی پاک آڈینٹٹی، پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے اسکین کرکے تصدیق کی جاسکے گی۔
کیو آر کوڈ میں کارڈ ہولڈر کی متعلقہ معلومات اور تصویر شامل ہوگی۔ اس کے ذریعے اداروں کے لیے شہری کا نام، پتہ اور دیگر ضروری شناختی معلومات اپنے کمپیوٹرائزڈ نظام میں زیادہ آسانی اور درستگی سے درج کرنا ممکن ہوگا، جس سے ڈیٹا انٹری کی غلطیوں میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔
نئے کارڈ پر فیملی نمبر کے علاوہ خصوصی علامات بھی شامل ہوں گی، جن سے معذور افراد، بزرگ شہریوں، اعضاء عطیہ کرنے والے افراد اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کی شناخت کی جاسکے گی۔ کارڈ پر شہری کا نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں درج ہوگا۔
نادرا کے مطابق نئے کارڈ میں ظاہری اور خفیہ سیکیورٹی خصوصیات کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چِپ والا اسمارٹ قومی شناختی کارڈ تقریباً 14 سال قبل متعارف کرایا گیا تھا، تاہم عملی طور پر چِپ کی تصدیق کے لیے درکار ریڈرز اور دیگر انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی کے باعث اس کی کئی سہولیات مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہوسکیں۔
کیوآر کوڈ پر مبنی نئے کارڈ کے ذریعے عام اسمارٹ فون یا کیمرے سے منسلک مناسب سافٹ ویئر کے ذریعے شناخت کی تصدیق ممکن ہوگی۔ ٹیلی کام کمپنیوں، بینکوں، اسپتالوں، پاکستان ریلوے، پولیس اور دیگر مجاز اداروں کو بھی کیو آر کوڈ اسکین اور تصدیق کرنے کے لیے سافٹ ویئر فراہم کیا جائے گا۔
نئے شناختی کارڈ کا اجرا مرحلہ وار ہوگا۔ پہلے مرحلے میں 14 اگست 2026 سےکیوآرکوڈ والا کارڈ صرف عام قومی شناختی کارڈ کی جگہ جاری کیا جارہا ہے۔ جنوری 2027 سے تمام اقسام کے قومی شناختی کارڈز، جن میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے این آئی سی او پی اور جووینائل کارڈز بھی شامل ہیں، کو نئے فارمیٹ میں منتقل کیا جائے گا۔
آخری مرحلے میں پاکستان اوریجن کارڈ، POC کو بھی چِپ کے بغیر QR کوڈ پر مبنی نئے شناختی کارڈ میں تبدیل کردیا جائے گا۔