پنشنرز کے لیے اہم سہولت سامنے آگئی ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ کار واضح کردیا ہے۔
نادرا کے مطابق پنشنرز کو اس سہولت کے ذریعے سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے متعلقہ دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ درخواست مکمل ہونے کے بعد سرٹیفکیٹ متعلقہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے کو خودکار طور پر بھیج دیا جائے گا۔
پاک آئی ڈی ایپ پر اکاؤنٹ کیسے بنائیں؟
سب سے پہلے صارف کو پاک آئی ڈی موبائل ایپ اپنے موبائل فون پر ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ایپ پر اکاؤنٹ بنایا جائے گا۔
اکاؤنٹ بنانے کے عمل کے دوران صارف کی شناخت کی تصدیق کے لیے چہرے کی تصویر اور فنگر پرنٹس لیے جائیں گے۔ اگر کسی وجہ سے فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہوسکے تو چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کا عمل مکمل کیا جاسکتا ہے۔
پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے لیے کون سا آپشن منتخب کریں؟
اکاؤنٹ بننے کے بعد ایپ میں پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کا آپشن منتخب کرنا ہوگا۔ اس مرحلے پر صارف کو دو اختیارات دیے جائیں گے۔
اگر پنشنر اپنا سرٹیفکیٹ خود حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ’’مائی سیلف‘‘ کا آپشن منتخب کرنا ہوگا۔
جبکہ والدین، بہن بھائی، شوہر، بیوی یا بچوں کے لیے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی صورت میں ’’مائی بلڈ ریلیٹوز‘‘ کا آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے متعلقہ فرد کا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ میں درج ہونا ضروری ہے۔
درخواست کے دوران متعلقہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے کے ریکارڈ کی تصدیق کی جائے گی۔ اگر ریکارڈ کی تصدیق ہوجائے تو درخواست اگلے مرحلے میں چلی جائے گی۔
چہرے کی تصدیق کے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں
درخواست منظور ہونے کے بعد صارف کو چہرے کی تصدیق مکمل کرنا ہوگی۔ نادرا کے مطابق اس مرحلے کے لیے مناسب روشنی والی جگہ کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔
چہرہ موبائل کیمرے کے فریم میں واضح طور پر نظر آنا چاہیے۔ تصویر لیتے وقت ٹوپی، عینک یا ماسک استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
نادرا کے مطابق تصویر سفید پس منظر میں بنائی جانی چاہیے تاکہ شناخت کی تصدیق میں دشواری پیش نہ آئے۔
اس کے بعد فنگر پرنٹس کی تصدیق کا مرحلہ ہوگا۔ اگر فنگر پرنٹس کی تصدیق کامیاب نہ بھی ہو تو درخواست کو اگلے مرحلے میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔
سرٹیفکیٹ موبائل فون میں محفوظ ہوجائے گا
تمام مراحل کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد پروف آف لائف سرٹیفکیٹ پاک آئی ڈی ایپ میں ظاہر ہوجائے گا۔ صارف اسے اپنے موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ کرکے محفوظ بھی کرسکتا ہے۔
سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد اسے دیکھنے کے لیے ہر بار انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ صارف ایپ کی ہوم اسکرین پر موجود آئی ڈی والٹ میں جاکر ’’مائی ڈاکومنٹس‘‘ کے آپشن سے سرٹیفکیٹ دیکھ سکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ نادرا کے مطابق سرٹیفکیٹ متعلقہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے کو خودکار طور پر بھیج دیا جاتا ہے۔ اس طرح پنشنر کو سرٹیفکیٹ الگ سے متعلقہ دفتر میں جمع کرانے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اگر پنشن ریکارڈ کی تصدیق نہ ہو تو کیا کریں؟
اگر درخواست کے دوران متعلقہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے کا ریکارڈ تصدیق نہ ہوسکے تو پنشنر کو متعلقہ ادارے سے رابطہ کرنا ہوگا۔
نادرا کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے اور نادرا کے درمیان پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے حوالے سے مطلوبہ انتظام موجود نہ ہو۔ دوسری ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ متعلقہ ادارے کے پاس پنشنر کا ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ ہو۔
ایسی صورتحال میں پنشنر کو اپنے متعلقہ پنشن فراہم کرنے والے ادارے سے رابطہ کرکے ریکارڈ کی درستگی اور تصدیق کا مسئلہ حل کروانا ہوگا۔
پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے یہ سہولت خاص طور پر ان پنشنرز کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے جو بار بار متعلقہ دفاتر کا سفر کرنے سے بچنا چاہتے ہیں۔ گھر بیٹھے شناخت کی تصدیق اور سرٹیفکیٹ کے اجرا کی سہولت سے وقت اور محنت دونوں کی بچت ہوسکتی ہے۔