راولپنڈی کے مصروف ترین مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے ایک شخص کو فورسز کی بروقت جوابی فائر میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا ملزم ضلع خیبر کا رہائشی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کا سرگرم رکن تھا جس کے قبضے سے اسلحہ اور پارٹی پرچم بھی برآمد ہوا ہے۔
مال روڈ راولپنڈی کا واقعہ اور جوابی کارروائی
سیکیورٹی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، آج صبح راولپنڈی کے حساس اور اہم ترین مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی اپنی معمول کی روٹین ڈیوٹی پر رواں دواں تھی۔ اسی دوران ایک نامعلوم راہگیر نے اچانک 9 ایم ایم پستول نکالا اور سیکیورٹی فورسز کی چلتی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔
موجودہ قانون اور طے شدہ اسٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پی) کے تحت، گاڑی پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی۔ اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں 9 ایم ایم پستول سے فائر کرنے والا حملہ آور موقع پر ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔
ملزم کی شناخت اور برآمدگیوں کی تفصیلات
واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر لاش کو تحویل میں لیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ ابتدائی تحقیقات اور شناخت کے عمل کے بعد سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے ملزم کا نام محمد حسین ہے اور وہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کا رہائشی تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تلاشی کے دوران ملزم محمد حسین کے قبضے سے درج ذیل اشیاء برآمد کی گئی ہیں
فائرنگ میں استعمال ہونے والا 9 ایم ایم پستول اور اضافی گولیاں
سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا پرچم، سر پر پہنی ٹوپی
متعدد اہم نوعیت کی دستاویزات
راولپنڈی کا مال روڈ ملک کے انتہائی حساس ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے جہاں عسکری تنصیبات، اہم دفاتر اور سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات موجود ہوتے ہیں۔
دوسری جانب، ہلاک ہونے والے شخص کا تعلق سیاسی جماعت سے ہونا اور اس کے قبضے سے پارٹی پرچم اور دستاویزات کا برآمد ہونا اس واقعے کو ایک سادہ جرم کی بجائے گہرے سیاسی یا پس پردہ محرکات سے جوڑتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب اس بات کی تہہ تک پہنچنا ہوگا کہ آیا یہ ایک انفرادی فعل تھا یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سازش کارفرما تھی۔ تفتیش کے مکمل ہونے کے بعد ہی اس واقعے کے تمام حقیقی حقائق کھل کر سامنے آ سکیں گے۔