پاکستان کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل انگلش فاسٹ بولر گرفتار

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل انگلش فاسٹ بولر گرفتار

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے انگلینڈ کے اسکواڈ میں شامل فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق برائیڈن کارس کو ڈربی میں ایک نائٹ کلب کے باہر پولیس نے حراست میں لیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں انگلش فاسٹ بولر کو پولیس کی جانب سے ہتھکڑیاں لگائی ہوئی نظر آرہی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :انگلش فاسٹ بولر جیمز اینڈرسن نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب انگلینڈ کی ٹیم نے ڈربی میں کاؤنٹی چیمپئن شپ کے میچ میں ڈربی شائر کو تین روز کے اندر شکست دی تھی۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں انگلینڈ کے دیگر کھلاڑی میتھیو پوٹس اور بین اسٹوکس بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے تحقیقات شروع کردیں

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے ڈربی میں گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کا علم ہے اور معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

بورڈ کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد صورتحال کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے برائیڈن کارس سے پوچھ گچھ کی جس کے بعد انہیں بغیر کسی الزام کے رہا کردیا گیا۔

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل ہیں

برائیڈن کارس کو پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم وہ پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں تھے۔

 یہ بھی پڑھیں :سابق پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کو بڑی خوشخبر ی مل گئی

اب پولیس کی جانب سے گرفتاری اور اس کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی تحقیقات کے باعث ان کی پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں شرکت بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

جو روٹ کے بیان کے بعد واقعہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ انگلینڈ کے نومنتخب ٹیسٹ کپتان جو روٹ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انگلینڈ کے کھلاڑی میدان کے اندر بہترین کارکردگی دکھانے کے ساتھ ساتھ میدان سے باہر بھی اچھے انسان اور بہترین رول ماڈل بنیں۔

برائیڈن کارس کی گرفتاری کے معاملے پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوگا کہ اس واقعے کا ان کے مستقبل اور پاکستان کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں شمولیت پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔

فی الحال پولیس کی جانب سے انہیں کسی الزام کے بغیر رہا کیے جانے کی اطلاع ہے جبکہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی معاملے کی مکمل تحقیقات شروع کردی ہیں۔

editor

Related Articles