ایران سے جنگ کے بعد امریکی فوجی اڈوں کا مستقبل خطرے میں ہے ،برطانوی اخبار

ایران سے جنگ کے بعد امریکی فوجی اڈوں کا مستقبل خطرے میں ہے ،برطانوی اخبار

ایران کے ساتھ تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خلیجی ممالک میں موجود بڑے اور مستقل امریکی فوجی اڈے اب پہلے کی طرح محفوظ نہیں رہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کے لیے خلیجی ممالک میں قائم بڑے فوجی اڈوں پر انحصار کرتا رہا ہے۔ ان تنصیبات نے امریکی فوج کو خطے میں فوری کارروائی اور فضائی طاقت کے استعمال کی سہولت فراہم کی تاہم حالیہ جنگ کے دوران ایرانی حملوں نے ان اڈوں کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی سینیٹ میں ایران جنگ سےمتعلق اہم قراردار منظور

ایرانی فورسز نے مختلف امریکی تنصیبات کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے امریکی حکام اور فوجی منصوبہ سازوں کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا مستقبل میں بڑی تعداد میں فوجیوں اور جنگی طیاروں کو ایک ہی جگہ پر تعینات رکھنا مناسب حکمت عملی ہے یا امریکی فوجی موجودگی کو زیادہ منتشر انداز میں ترتیب دینا چاہیے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق جنگ کے دوران امریکا نے اپنی بعض فوجی صلاحیتوں اور طیاروں کو اسرائیل، اردن اور دیگر نسبتاً دور مقامات کی طرف منتقل کیا۔ یورپ میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے بھی بعض طیاروں اور ڈرونز نے کارروائیاں کیں۔ یہ مقامات ایرانی کم فاصلے کے میزائلوں کی براہ راست زد سے نسبتاً باہر ہیں۔

اب واشنگٹن کے سامنے ایک اہم فیصلہ موجود ہے۔ امریکا کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا ایران کے حملوں سے متاثر ہونے والی خلیجی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر پر بھاری رقم خرچ کی جائے یا پھر پورے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی کے روایتی ڈھانچے پر نظرثانی کی جائے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکہ کو ایران جنگ میں کون پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے ، ٹرمپ کا بڑاانکشاف

امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے اپریل میں جاری کیے گئے ایک تخمینے کے مطابق مشرق وسطیٰ کے سات ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت اور ضروری تعمیر نو پر تقریباً 5 ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔ اس تخمینے میں مکمل تعمیر نو کے ساتھ بعض تنصیبات کی مرمت اور سہولیات میں تبدیلی کے اخراجات بھی شامل کیے گئے تھے۔

تاہم امریکی فوجی حکام کے سامنے صرف مالی اخراجات کا مسئلہ نہیں بلکہ مستقبل کی جنگی حکمت عملی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر بڑے فوجی اڈے ایران کے قریب ہونے کی وجہ سے مسلسل خطرے میں رہتے ہیں تو امریکا کو ممکنہ طور پر اپنی افواج کو چھوٹی اور زیادہ منتشر تنصیبات میں تقسیم کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران بھی امریکی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی عسکری صلاحیتوں میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ اگر امریکی فوجی اثاثے اردن، اسرائیل یا دیگر نسبتاً دور علاقوں میں منتقل ہوتے ہیں تو ایران زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور تعیناتی پر توجہ دے سکتا ہے تاکہ امریکی اور اتحادی تنصیبات اس کی پہنچ سے باہر نہ رہیں۔

اس صورتحال نے امریکا کے خلیجی اتحادیوں کے لیے بھی نئے سوالات پیدا کر د ئیے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک اور امریکا کے درمیان سکیورٹی تعاون کا ایک اہم ڈھانچہ موجود رہا ہے۔ تاہم حالیہ جنگ نے بعض اتحادی ممالک کو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے امریکا کے علاوہ دیگر طاقتوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر بھی غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :اکثریتی امریکی شہری ایران جنگ کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دینے لگے

فنانشل ٹائمز کے مطابق جنگ کے بعد خلیجی ممالک کے اندر یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے کہ کسی بڑے علاقائی تنازع کی صورت میں امریکی سکیورٹی ضمانت کس حد تک قابل اعتماد ثابت ہوگی۔ دوسری طرف واشنگٹن کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں ہوگا کہ وہ خطے میں اپنی موجودگی کم کرے یا نئے حالات کے مطابق اسے زیادہ جدید اور منتشر انداز میں برقرار رکھے۔

یوں ایران کے ساتھ حالیہ جنگ صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آنے والے عرصے میں امریکی اڈوں کی تعمیر نو، فوجیوں کی تعیناتی اور خلیجی اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی تعلقات کے بارے میں ہونے والے فیصلے خطے کی آئندہ تزویراتی صورتحال پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔

editor

Related Articles