کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے اربوں روپے سے بنی سڑکوں کو کھود کرتباہ کیا،آئی جی آزاد کشمیر

کالعدم ایکشن کمیٹی  کے شرپسندوں نے اربوں روپے سے بنی  سڑکوں کو کھود کرتباہ کیا،آئی جی آزاد کشمیر

آئی جی آزاد جموں و کشمیر کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے احتجاجی صورتحال اور امن و امان کے حوالے سے کالعدم ایکشن کو بے نقاب کیا ہے ۔

آئی جی آزاد کشمیر نے ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران ہونے والی  توڑ پھوڑ اور تشدد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی سڑکوں کو کھود کر نقصان پہنچایا گیا، جبکہ درخت کاٹ کر  ٹمبر مافیا کے حوالے کیے گئے۔

بازار بند کرنے کی دھمکیاں

کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے کہا کہ  ایکشن کمیٹی سے وابستہ بعض افراد کی جانب سے بازاروں اور مارکیٹوں کو بند کرنے کی باتیں کی جاتی رہیں،انہوں نے کہا کہ احتجاج کے باعث آزاد کشمیر میں سیاحت اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جس سے عام شہریوں اور کاروباری طبقے کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں

آئی جی آزاد کشمیر نے کہا کہ احتجاج کے دوران فورسز کے اہلکار مظاہرین کے ہاتھوں شہید ہوئے جبکہ سیکڑوں اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں،کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر خواتین کو  ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان کے پیچھے چھپ کر فورسز پر فائرنگ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :کالعدم تنظیم کے شرپسند روڈ بلاک کرتے، گاڑیوں کو لوٹتےاور ٹرانسپورٹروں پر تشدد کرتے ہیں، آئی جی آزاد کشمیر

فورسز نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا

کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کا کہنا تھا کہ فورسز کی جانب سے فائرنگ کا جواب دینے کے بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہےانہوں نے سوال اٹھایا کہ جدید اور ممنوعہ قرار دیے جانے والے ہتھیاروں، جن میں ایم 4 اور ایم 7 شامل ہیں، سے لیس افراد کسی پرامن احتجاج کا حصہ کیسے ہوسکتے ہیں؟

پرامن احتجاج اور تشدد میں فرق

آئی جی آزاد کشمیر نے کہا کہ لوگوں کا روزگار متاثر کرنا، بے گناہ افراد کو قتل یا اغوا کرنا اور فورسز کی چوکیوں پر دستی بموں سے حملے کرنا کسی صورت پرامن احتجاج کے زمرے میں نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے حق کو تسلیم کیا جاسکتا ہے، تاہم تشدد، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کو پرامن احتجاج قرار نہیں دیا جاسکتا۔

editor

Related Articles