خلائی دنیا میں موجود ایک سیارچہ اپنی غیر معمولی ساخت اور ممکنہ معدنی دولت کے باعث طویل عرصے سے سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اسے 16 سائیکی کا نام دیا گیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی سطح اور اندرونی حصے میں بڑی مقدار میں دھاتیں موجود ہیں۔
16 سائیکی مریخ اور مشتری کے درمیان موجود سیارچوں کی پٹی میں واقع ایک بڑا سیارچہ ہے۔ اس کی دریافت 1852 میں اطالوی ماہر فلکیات اینیبالے ڈی گاسپاریس نے کی تھی۔
یہ سیارچہ دیگر بہت سے سیارچوں سے اس لیے مختلف سمجھا جاتا ہے کہ اس کی ساخت میں دھاتی مواد کی مقدار خاصی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں لوہا اور نکل سمیت قیمتی دھاتوں کی موجودگی کا امکان ہے، جبکہ بعض اندازوں میں سونے اور پلاٹینم جیسے قیمتی عناصر کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا اور مختلف رپورٹس میں 16 سائیکی کی مالیت کے حوالے سے انتہائی بڑے اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں۔ ایک مشہور دعویٰ یہ ہے کہ اگر اس سیارچے میں موجود تمام قیمتی دھاتوں کو زمین کے تمام انسانوں میں برابر تقسیم کیا جائے تو ہر شخص کھربوں ڈالر کا مالک بن سکتا ہے۔
تاہم ماہرین واضح کر چکے ہیں کہ 93 کھرب ڈالر فی شخص والی بات ایک سادہ مفروضے پر مبنی حساب ہے، اسے حقیقی دولت یا ممکنہ فروخت کی قیمت نہیں سمجھا جا سکتا۔ کسی سیارچے کی مجموعی معدنی مقدار کو زمین پر موجود مارکیٹ قیمتوں سے ضرب دینا اس کی حقیقی معاشی قدر کا درست اندازہ نہیں دیتا۔
16 سائیکی کی اصل ساخت جاننے کیلئے ناسا نے سائیکی مشن روانہ کیا ہے۔ خلائی مشن اکتوبر 2023 میں روانہ ہوا اور اس کا مقصد سیارچے کا تفصیلی مطالعہ کرنا ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ 16 سائیکی ممکنہ طور پر کسی قدیم سیاروی جسم کا دھاتی مرکز ہوسکتا ہے، جو اربوں سال قبل ہونے والے ٹکراؤ کے نتیجے میں اپنی بیرونی چٹانی تہوں سے محروم ہوگیا۔ اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطالعہ زمین سمیت دوسرے چٹانی سیاروں کے اندرونی حصے کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
اس مشن کے ذریعے ماہرین سیارچے کی سطح، ساخت، مقناطیسی خصوصیات اور دھاتی اجزا کا جائزہ لیں گے۔ اس سے یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ 16 سائیکی واقعی زیادہ تر دھاتوں پر مشتمل ہے یا اس کی ساخت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ 16 سائیکی کو اکثر’سونے کا سیارچہ‘ کہا جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں صرف سونا اور پلاٹینم موجود ہیں۔ اس کی اصل ساخت اور قیمتی دھاتوں کی مقدار ابھی مکمل طور پر معلوم نہیں۔ اسی لیے 16 سائیکی کی سب سے بڑی اہمیت اس کی ممکنہ دولت نہیں بلکہ اس راز میں ہے کہ یہ خلائی جسم کس طرح وجود میں آیا اور اس کے اندر کیا چھپا ہوا ہے۔