بھارت کا ایک اور عالمی جھوٹ بے نقاب، روس، یوکرین جنگ میں مار ے گئے بھارتی فوجیوں کی تعداد سامنے آگئی

بھارت کا ایک اور عالمی جھوٹ بے نقاب، روس، یوکرین جنگ میں مار ے گئے بھارتی فوجیوں کی تعداد سامنے آگئی

بھارت کا ایک اور عالمی جھوٹ بے نقاب ہو گیا ہے، بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث روزگار کی تلاش میں روسی فوج کا حصہ بننے والے 227 بھارتی شہریوں میں سے 51 یوکرین جنگ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے تصدیق کی ہے کہ 139 شہریوں کو روسی فوج سے فارغ کروا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب، واقعے کی سنگینی پر نوٹس لیتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو تاحال پھنسے ہوئے شہریوں کی فوری واپسی کا حکم دے دیا ہے۔

بھارت میں روزگار کے سنگین بحران نے نوجوانوں کو موت کی وادیوں میں دھکیل دیا ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق، بہتر مستقبل اور پرکشش تنخواہوں کی لالچ میں 227 بھارتی شہری روسی فوج میں بھرتی ہوئے تھے، جنہیں دھوکے سے یوکرین کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے کے لیے بھیج دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حکام کی روس میں غیر معمولی ملاقاتیں

ان بدقسمت نوجوانوں میں سے اب تک 51 افراد اس غیر ملکی جنگ کا ایندھن بن کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

سفارتی اعتراف اور شہریوں کی واپسی کے دعوے

اس انتہائی حساس معاملے پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوششوں کے بعد، بالآخر بھارتی حکومت کو حقائق تسلیم کرنا پڑے۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایک اہم میڈیا بریفنگ کے دوران بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے انکشاف کیا کہ حکومت کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اب تک 139 بھارتی شہریوں کو روسی فوج کی خدمات سے فارغ کروا لیا گیا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ تقریباً 2 درجن بھارتی شہری اب بھی روسی فوج کے صفوں میں موجود ہیں، جن کی واپسی کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کا مودی حکومت کو انتباہ

اس سنسنی خیز انکشاف اور درجنوں ہلاکتوں کے بعد بھارت میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی دہائیوں پر بھارتی سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اعلیٰ عدلیہ نے وفاقی حکومت کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں حکم دیا ہے کہ وہ روس میں پھنسے بقیہ تمام شہریوں کی بحفاظت اور فوری واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں انسانی وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف عالمی نیٹ ورکس متحرک ہیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران یہ خبریں تواتر سے سامنے آتی رہی ہیں کہ ٹریول ایجنٹس اور ہیومن ٹریفیکنگ کے گٹھ جوڑ نے بھارت کے غریب اور پسماندہ علاقوں سے بے روزگار نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں:بھارت بڑی مشکل میں پھنس گیا، یورپی یونین نے روس کے ساتھ تعلقات پرخطرناک دھمکی دیدی

ان نوجوانوں کو روس میں سیکیورٹی گارڈز، آرمی ہیلپرز یا دیگر سویلین نوکریوں کا جھانسہ دے کر لے جایا گیا، مگر وہاں پہنچنے کے بعد ان کے پاسپورٹ ضبط کر کے انہیں زبردستی عسکری تربیت دی گئی اور یوکرین کے خلاف صفِ اول کے جنگی محاذوں پر جھونک دیا گیا۔

یہ واقعہ محض چند سو افراد کے پھنسنے کا نہیں، بلکہ یہ نام نہاد ‘شائننگ انڈیا’ کے چہرے پر پڑنے والی وہ بدنما اور تلخ حقیقت ہے جو مودی حکومت کے معاشی دعووں کا پردہ چاک کرتی ہے۔

 دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک کے شہری اگر بے روزگاری اور غربت سے تنگ آ کر محض چند روپوں کی خاطر غیر ملکی جنگوں میں جان دینے پر مجبور ہیں، تو یہ ریاست کی ایک بہت بڑی اور شرمناک ناکامی ہے۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ کا بشکیک میں دیا گیا بیان دراصل اس سفارتی خفت کو چھپانے کی ایک کوشش ہے جس کا سامنا نئی دہلی کو عالمی سطح پر کرنا پڑ رہا ہے۔

اپنے ہی شہریوں کے تحفظ میں ناکامی اور ٹریول ایجنٹس کے مافیا کو کھلی چھوٹ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی رٹ کس حد تک کمزور ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:الاسکا ٹرمپ، پیوٹن سربراہی اجلاس کی ناکامی، بھارت کی سفارتی مشکلات میں مزید اضافہ

سپریم کورٹ کی مداخلت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مودی حکومت کے سفارتی اور انتظامی ادارے اس بحران کو سنبھالنے میں مکمل طور پر مفلوج ہو چکے تھے، اور اب عدالتی دباؤ کے بغیر ان کی واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا تھا۔

یہ واقعہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو انسانی سمگلروں کے اس خونی کھیل سے بچانے کے لیے سخت ترین اقدامات کریں۔

Related Articles