گھر کا کچرا عام طور پر ایسی چیز سمجھا جاتا ہے جسے جلد از جلد گھر سے باہر نکال دیا جائے، لیکن اگر یہی کچرا آپ کے لیے آمدن کا ذریعہ بن جائے تو؟ پنجاب حکومت کے گرین کریڈٹ پروگرام نے شہریوں کے لیے ماحول دوست سرگرمیوں کو مالی فائدے سے جوڑنے کا راستہ کھول دیا ہے۔
گھر میں پودے لگانے، پلاسٹک الگ کرنے، ری سائیکلنگ اور نامیاتی کچرے کی کمپوسٹنگ جیسے اقدامات کے ذریعے شہری گرین کریڈٹس حاصل کر سکتے ہیں، خاص بات یہ ہے کہ اس پروگرام میں صرف بڑے ادارے نہیں بلکہ ایک عام گھرانہ بھی حصہ لے سکتا ہے، یعنی اگر آپ اپنے گھر سے پلاسٹک الگ کرتے ہیں، سبزیوں کے کچرے سے قدرتی کھاد تیار کرتے ہیں یا چھت پر پودے لگاتے ہیں تو یہ سرگرمیاں آپ کو گرین کریڈٹ پروگرام کے تحت مالی فائدہ دلانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
پنجاب گرین کریڈٹ پروگرام کیا ہے؟
حکومتِ پنجاب کا ایک اہم ماحول دوست اقدام ہے، جس کا مقصد شہریوں کو مثبت ماحولیاتی سرگرمیاں اپنانے پر مالی مراعات اور انعامات دینا ہے۔
پنجاب کے محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق پروگرام کا آن لائن نظام مختلف ماحول دوست سرگرمیوں کو ٹریک اور تصدیق کرتا ہے پروگرام میں درخت لگانے، ویسٹ مینجمنٹ، توانائی کی بچت سمیت مجموعی طور پر 32 گرین سرگرمیاں شامل ہیں۔
گھر سے پلاسٹک الگ کریں اور ری سائیکلر تک پہنچائیں
اگر آپ اس پروگرام میں اپنے گھر سے حصہ لینا چاہتے ہیں تو پہلا آسان قدم کچرے میں سے پلاسٹک الگ کرنا ہے۔
پروگرام سے متعلق فراہم کردہ معلومات کے مطابق شہری پلاسٹک کو اکٹھا کرکے EPA کے رجسٹرڈ ری سائیکلر کے پاس جمع کرا سکتے ہیں۔ فی کلو پلاسٹک کے حساب سے ادائیگی بھی کی جاتی ہے ، میڈیا رپورٹ کے مطابق شہری پلاسٹک جمع کرانے کے بعد ملنے والی رسید کی تصویر بنا کر متعلقہ پورٹل پر اپ لوڈ کر سکتے ہیں ، تصدیق کے بعد رقم منتقل کی جاتی ہے۔
ابتدائی طور پر ایک شہری کے لیے چار کلو تک پلاسٹک کے حوالے سے ادائیگی کی حد رکھی گئی ہے، جس کے تحت چار کلو پلاسٹک پر 10 ہزار روپے تک حاصل کیے جا سکتے ہیں تاہم مستقبل میں اس حد کو ختم کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پلاسٹک کچرا ری سائیکلنگ کے نظام میں لایا جا سکے۔
سبزیوں کے کچرے سے گھر میں کھاد بنائیں
گھر کے کچرے میں موجود سبزیوں اور دیگر نامیاتی مواد کو بھی ضائع کرنے کے بجائے استعمال کیا جا سکتا ہے ، اس کے لیے ایک مناسب برتن میں نامیاتی کچرا جمع کیا جا سکتا ہے۔ اسے ہوا گزرنے والی جگہ پر رکھا جائے اور نمی کا مناسب خیال رکھا جائے، تقریباً 32 سے 38 دن میں یہ مواد قدرتی کھاد میں تبدیل ہو سکتا ہے، یعنی جس سبزی کے چھلکے اور نامیاتی کچرے کو عام طور پر گھر سے باہر پھینک دیا جاتا ہے، وہی آپ کے گھر کے پودوں کے لیے قدرتی کھاد بن سکتا ہے۔
گھر کی چھت پر پودے لگانے کا بھی فائدہ
اگر آپ کو باغبانی کا شوق ہے تو گرین کریڈٹ پروگرام آپ کے لیے مزید دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے ، اس پروگرام سے متعلق فراہم کردہ معلومات کے مطابق شہری اپنی چھت یا دستیاب جگہ پر کم از کم 10 پودے لگا کر بھی اس سرگرمی میں حصہ لے سکتے ہیں ، پودوں کی نگہداشت اور مقررہ مدت کے بعد تصدیق کے عمل کی بنیاد پر مالی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
لاہور کے ایک شہری کی جانب سے ویڈیو رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہوں نے پروگرام کے تحت رجسٹریشن کے بعد گھر میں 10 پودے لگائے ہیں، ان کے مطابق چھ ماہ تک پودوں کی پرورش کے بعد انہیں مالی معاونت ملنے کی توقع ہے، جسے مزید پودے لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک گھر کے کئی افراد بھی حصہ لے سکتے ہیں؟
یہاں یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ اگر گھر کے مختلف افراد اپنی اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں تو وہ بھی پروگرام کے تحت الگ سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس طرح ایک گھر صرف ایک فرد تک محدود رہنے کے بجائے پورے خاندان کی سطح پر ماحول دوست سرگرمیوں کا حصہ بن سکتا ہے ، یوں ماحول کی بہتری ایک فرد کی ذمہ داری نہیں رہتی بلکہ پورے گھر کی مشترکہ سرگرمی بن سکتی ہے۔
کتنی رقم مل سکتی ہے؟
گرین کریڈٹ پروگرام میں مختلف ماحول دوست سرگرمیوں کے لیے مختلف مالی فوائد بھی شامل ہیں ، کمپوسٹنگ، پودے لگانے اور پلاسٹک ری سائیکلنگ کے لیے مخصوص مالی رقوم شہری حاصل کرسکتے ہیں۔
سرکاری گرین کریڈٹ پلیٹ فارم پر ایک لاکھ روپے تک کے انعامات حاصل کرنے والے شہریوں کے حوالے بھی موجود ہیں، تاہم رقم سرگرمی اور تصدیق کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پلاسٹک ری سائیکلنگ کے ذریعے شہری اپنے گھر سے پلاسٹک الگ کرکے ای پی اے کے رجسٹرڈ ری سائیکلر کو جمع کرا سکتے ہیں، فی کلو پلاسٹک 2,500 روپے ادائیگی کی جائے گی۔
ابتدائی طور پر ایک شہری کے لیے زیادہ سے زیادہ 4 کلو پلاسٹک تک کی حد رکھی گئی ہے، یعنی اس حساب سے 10 ہزار روپے تک حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پلاسٹک جمع کرانے کے بعد ری سائیکلر سے ملنے والی رسید کی تصویر پورٹل پر اپ لوڈ کرنا ہوگی تاکہ ادائیگی کا عمل مکمل ہو سکے۔
کمپوسٹنگ کی بات کریں تو گھر کے سبزیوں اور دیگر نامیاتی کچرے سے کمپوسٹ تیار کرنے کو بھی گرین سرگرمی میں شامل کیا گیا ہے۔
شجرکاری کرنے پر گھر کی چھت یا دستیاب جگہ پر کم از کم 10 پودے لگانے کی صورت میں 20 ہزار روپے تک مالی معاونت حاصل کی جاسکتی ہیں۔
پروگرام کا دائرہ کار
گرین کریڈٹ پروگرام کی ابتدائی سرگرمیاں لاہور میں شروع کی گئی ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں اسے پنجاب کے دیگر علاقوں تک وسعت دینے کا منصوبہ بھی بتایا گیا ہے۔
اگر پروگرام کا دائرہ وسیع ہوتا ہے اور مزید کلیکشن پوائنٹس قائم کیے جاتے ہیں تو عام شہریوں کے لیے پلاسٹک اور دیگر قابلِ ری سائیکل کچرے کو باقاعدہ نظام کے تحت جمع کرانا آسان ہو سکتا ہے۔
کچرا اب صرف کچرا نہیں؟
گرین کریڈٹ پروگرام کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ یہ شہریوں کو کچرے کو صرف مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک وسیلے کے طور پر دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے، گھر میں پلاسٹک الگ کرنا، سبزیوں کے کچرے سے کھاد بنانا اور پودے لگانا بظاہر چھوٹے کام ہیں لیکن اگر ہزاروں گھرانے یہی اقدامات شروع کر دیں تو اس کا مجموعی اثر ماحول پر نمایاں ہو سکتا ہے۔
گھر کا کچرا درست طریقے سے سنبھالیں، پودے لگائیں، ماحول کو بہتر بنائیں اور اگر پروگرام کے تحت اہل ہوں تو گھر بیٹھے ہزاروں روپے بھی کمائیں۔