وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبے کے دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب کے ساڑھے تین ہزار سے زائد دیہات میں سیوریج ڈرینج اور پکی گلیوں کے منصوبے شروع کرنے کی ہدایت کردی۔
اجلاس میں مثالی گاؤں پراجیکٹ کے حوالے سے بھی مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مثالی گاؤں کے قیام کے لیے کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن متعارف کرانے کی منظوری دے دی، جس کے ذریعے مقامی آبادی کو دیہی ترقی کے منصوبوں میں شامل کیا جائے گا۔
اجلاس میں دیہی منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر، کمیونٹی ہیلتھ موبلائزر، سیکرٹری یونین کونسل، ہیڈ ماسٹر اور دیگر متعلقہ افراد کو رورل ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا حصہ بنانے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں ارکان اسمبلی کو بھی رورل ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری سونپنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، معیار کو یقینی بنانا اور مقررہ اہداف کے مطابق کام مکمل کرانا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ پنجاب کے دیہات میں ڈرینج اور سیوریج کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں، جبکہ گاؤں کی گلیوں کو پکا اور خوبصورت بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ وہ عوام کو ٹوٹی پھوٹی گلیوں اور گندے پانی کی مشکلات سے دوچار نہیں دیکھ سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر گاؤں اور دیہات میں ڈرینج، سیوریج اور پکی گلیوں کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے دیہی علاقوں کے بنیادی مسائل کے حل میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور پائیداری کو یقینی بنایا جائے اور ایسے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں جن سے براہِ راست عام لوگوں کی زندگی آسان ہو۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ دیہات کے لوگوں کا بھی وسائل پر پورا حق ہے اور حکومت دیہی آبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مثالی گاؤں پراجیکٹ ان کے دل کے بہت قریب ہے اور وہ پنجاب کے ہر گاؤں کی حالت بدلنا چاہتی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دیہی علاقوں میں سیوریج اور ڈرینج کے مسائل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ گلیوں کی تعمیر و پختگی، صفائی اور خوبصورتی پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ دیہات کے رہائشیوں کو بہتر اور صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جاسکے۔
اجلاس میں دیہی ترقی کے منصوبوں کی نگرانی، مقامی سطح پر مختلف سرکاری نمائندوں کی شمولیت اور ارکان اسمبلی کے ذریعے مانیٹرنگ کے نظام کو مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔