معاشی استحکام اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے بعد پاکستان نے عالمی کیپیٹل مارکیٹس میں اپنی رسمی واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔
وزارتِ خزانہ اور حکومتِ پاکستان نے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے 5 اور 10 سالہ طویل مدتی ‘ڈوئل ٹرانچ’ یو ایس ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ کا باقاعدہ اجرا شروع کر دیا ہے تاکہ عالمی مالیاتی نظام سے فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔
مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق وزارتِ خزانہ اور حکومتِ پاکستان نے عالمی سطح پر معاشی اعتماد کی بحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ کا اجرا عمل میں لایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس بار پاکستان کی جانب سے 5 سال اور 10 سالہ 2 مختلف مدتوں پر مشتمل ’ڈوئل ٹرانچ‘ یورو بانڈ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد عالمی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے طویل مدتی فنڈز حاصل کرنا ہے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
معاشی اشاریوں کی بہتری اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد
مشیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ یورو بانڈ کا یہ جدید اور بروقت اجرا مارکیٹ کے سازگار حالات اور عالمی سرمایہ مارکیٹ تک پاکستان کی بہتر رسائی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں کی جانے والی اپ گریڈیشن اور بنیادی معاشی اشاریوں میں پائیدار بہتری کے باعث ہی یہ ممکن ہو سکا ہے۔
حکومت کے مضبوط میکرو اکنامک اشاریوں اور اصلاحاتی پالیسی اقدامات نے بیرونی سرمایہ کاروں کے تحفظات کو دور کر کے ان کا اعتماد بحال کیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے شدید دباؤ، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور عالمی کریڈٹ ریٹنگ میں تنزلی کے باعث عالمی کیپیٹل مارکیٹس تک رسائی میں سخت مشکلات کا سامنا تھا۔
تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری، ایکسچینج ریٹ میں استحکام اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے مثبت اشاروں کے بعد پاکستان کی معاشی بنیادیں مستحکم ہوئی ہیں۔
اس پس منظر میں یورو بانڈز کا دوبارہ اجرا پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے دوبارہ کھولنے کا نقطۂ آغاز سمجھا جا رہا ہے۔
اگر اس فیصلے کا معاشی تناظر میں گہرا جائزہ لیا جائے تو عالمی کیپیٹل مارکیٹس میں پاکستان کی یہ واپسی محض ایک مالیاتی اقدام نہیں بلکہ ملکی معیشت کی سمت کی درستگی کا ایک واضح ثبوت ہے۔
5 اور 10 سالہ ڈوئل ٹرانچ بانڈز کا انتخاب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت نہ صرف قلیل مدتی ضروریات بلکہ طویل مدتی قرضوں کے ڈھانچے کو بھی بہتر بنانا چاہتی ہے۔
کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے بعد یورو بانڈ کا اجرا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار اب پاکستان کو ایک محفوظ اور ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اس پیش رفت سے جہاں غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر پڑے گا، وہاں پاکستان کو اپنے بین الاقوامی مالیاتی تعلقات کو استوار کرنے کا زبردست موقع بھی ملے گا۔
اگر حکومت معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کا یہ تسلسل برقرار رکھتی ہے، تو یہ اقدام مستقبل میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بھی راستے ہموار کرے گا۔ق