کاغان میں مارخور کا دیوہیکل مجسمہ، سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز بن گیا

کاغان میں مارخور کا دیوہیکل مجسمہ، سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز بن گیا

وادیٔ کاغان کے خوبصورت سیاحتی مقام بٹہ کنڈی میں پاکستان کے قومی جانور مارخور کا ایک منفرد اور دیوہیکل مجسمہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

شاہ داؤد پیلس کے قریب قائم یہ عظیم الشان مجسمہ تقریباً 105 فٹ بلند اور 38 فٹ چوڑا ہے، جو دور سے ہی نمایاں دکھائی دیتا ہے اور وادی کے قدرتی حسن کے درمیان ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جدید ٹیکنالوجی کا مظاہرہ حادثے میں بدل گیا،پولیس موبائل سے جا ٹکرائی

اس شاندار مجسمے کو انجینئر محمد شہزاد نے تقریباً 5 سال کی مسلسل محنت اور لگن سے تیار کیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد صرف ایک بڑا مجسمہ بنانا نہیں بلکہ پاکستان کے قومی جانور مارخور کی اہمیت اجاگر کرنا اور جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے عوام میں شعور پیدا کرنا بھی ہے۔ مارخور پاکستان کی قدرتی اور جنگلی حیات کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا شمار ملک کے اہم پہاڑی جانوروں میں ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر شمالی علاقوں کے پہاڑی خطوں میں پایا جاتا ہے۔

بٹہ کنڈی میں قائم یہ دیوہیکل مجسمہ وادیٔ کاغان کی سیاحتی شناخت میں ایک منفرد اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ قدرتی پہاڑوں، سرسبز مناظر اور ٹھنڈے موسم کے درمیان مارخور کا یہ بلند قامت مجسمہ نہ صرف سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث بن رہا ہے بلکہ علاقے میں ایک نئے سیاحتی مقام کے طور پر بھی سامنے آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی سے محروم علاقوں کیلئے بڑی امید، سولر ایمبولینس تیار

یہ مجسمہ پاکستان کے قدرتی ورثے اور جنگلی حیات کے تحفظ کا پیغام بھی اجاگر کرتا ہے۔ سیاح یہاں آ کر اس منفرد شاہکار کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ مارخور اور دیگر جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت سے بھی آگاہ ہو سکتے ہیں۔

مقامی سطح پر ایسے منصوبے سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ منفرد اور قابل دید مقامات سیاحوں کو کسی علاقے کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ بٹہ کنڈی میں موجود یہ مجسمہ مستقبل میں وادیٔ کاغان آنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک نمایاں تفریحی اور فوٹوگرافی پوائنٹ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یوں وادیٔ کاغان کے دلکش قدرتی مناظر کے درمیان 105 فٹ بلند مارخور کا یہ مجسمہ پاکستان کے قومی جانور کی اہمیت، جنگلی حیات کے تحفظ اور سیاحت کے فروغ کا منفرد امتزاج پیش کر رہا ہے۔

editor

Related Articles