ذبیح اللہ مجاہد اور نور ولی مسعود کے درمیان طویل ملاقات، طالبان رجیم اور کالعدم ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا

ذبیح اللہ مجاہد اور نور ولی مسعود کے درمیان طویل ملاقات، طالبان رجیم اور کالعدم ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا

افغان صوبے ننگرہار میں افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کے درمیان 8 گھنٹے طویل مبینہ ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد طالبان رجیم اور کالعدم ٹی ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق دہشتگرد ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور طالبان رجیم کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے درمیان خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملوں پرغور کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کو مزید 8 ڈرونز اور دیگر وسائل فراہم کرنے کے معاملات بھی طے پائے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد اور نور ولی مسعود کی ملاقات

افغانستان کے اندرونی ذرائع سے ملنے تفصیل کے مطابق افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور کالعدم دہشتگرد تنظیم ’ٹی ٹی پی‘ کے سربراہ نور ولی محسود کے درمیان اس ملاقات کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے جو طویل دورانیے کی اہم ترین ملاقات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں طالبان حکومت نے ہر قسم کے مظاہروں پر پابندی عائد کردی

میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیر کو شام 6 بجے شروع ہونے والی یہ بیٹھک لگ بھگ 7 سے 8 گھنٹے تک جاری رہی۔ اس اعلیٰ سطح ملاقات میں ذبیح اللہ مجاہد کے ہمراہ مقامی طالبان کمانڈرز کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی، جبکہ نور ولی محسود کے ساتھ کالعدم دہشتگرد تنظیم ’ٹی ٹی پی‘ کے کئی سینیئر دہشتگرد بھی مشاورتی عمل کا حصہ تھے۔

ڈرونز اور جدید وسائل کی مبینہ فراہمی

ملاقات کی اندرونی کہانی کے حوالے سے ذرائع نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد نے نور ولی محسود کو مبینہ طور پر مزید 8 ڈرونز حوالے کر دیے ہیں۔

بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس طویل نشست میں کالعدم دہشتگرد ’ٹی ٹی پی‘ کے پروپیگنڈا ونگ کو مضبوط کرنے کے لیے ایک پیشہ ورانہ ’سوشل میڈیا‘ ٹیم کی فراہمی اور تنظیم کے لیے دیگر ضروری وسائل کی دستیابی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے کارندے نور ولی مسعود اور ذبیح اللہ نے مجموعی صورتحال، کالعدم تنظیم کے اندرونی معاملات اور پاکستان و افغانستان کے مابین بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں آئندہ کی حکمت عملی پر بھی بات چیت کی ہے۔

پاکستان میں افغان سفیر کی تصدیق

ادھر پاکستان میں افغانستان کے سفیر شکیب نے ایک بار پھر واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہتا۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو ) میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان سفیر شکیب نے کہا کہ افغانستان اس بات کو مانتا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔

افغان سفیر نے کہا کہ افغانستان ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، افغانستان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کو پرانے تصورات سے آگے بڑھنا چاہیے۔

ہماری خواہش ہے کہ 2021 کے بعد کے افغانستان کو سرد جنگ، 1990 کی دہائی یا غیر ملکی افواج کی موجودگی کے دور کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

افغان سفیر نے خواہش ظاہر کی کہ تجارت، ٹرانزٹ اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے عوامی و سماجی روابط بحال رہنے چاہییں، اس لیے تقسیم اور محاذ آرائی کے بجائے براہِ راست مذاکرات، تعاون اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:لوگ مررہے ہیں اور طالبان پانچ سال کی تباہی کا جشن منارہے ہیں، افغان شہری کا غصے کا اظہار، ویڈیو وائرل

واضح رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں کالعدم دہشتگرد ’ٹی ٹی پی‘ کے جنگجوؤں کی موجودگی اور ان کی پاکستان مخالف سرگرمیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا آ رہا ہے۔

اسلام آباد کی جانب سے افغان عبوری حکومت سے بارہا یہ پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔

تاہم کابل انتظامیہ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے کہ وہ کالعدم دہشتگرد ’ٹی ٹی پی‘ کی کسی بھی قسم کی ریاستی یا منظم سرپرستی کر رہی ہے۔

اگر ننگرہار میں ہونے والی اس ملاقات اور ڈرونز کی فراہمی کے دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے، تو اس کے پاک افغان سفارتی اور سیکیورٹی تعلقات پر انتہائی سنگین اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں طالبان کے خلاف غم و غصہ، طالبان رہنماوں کی گاڑی پر فائرنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

یہ پیش رفت دراصل ان پاکستانی خدشات پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ کالعدم دہشتگرد ’ٹی ٹی پی‘ کو افغان سرزمین پر نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ انہیں بعض عناصر کی جانب سے لاجسٹک اور تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ڈرونز کی فراہمی اور ’سوشل میڈیا‘ کے محاذ پر مدد اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عسکریت پسند اب روایتی گوریلا جنگ سے نکل کر جدید تکنیکی اور ہائبرڈ وار فیئر کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔

یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک نیا سیکیورٹی چیلنج کھڑا کر سکتی ہے، جس کے بعد اسلام آباد اپنی افغان پالیسی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے کابل کے حوالے سے مزید سخت گیر مؤقف اپنانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

Related Articles