سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سینیٹر عابد شیر علی اور سینیٹر ایمل ولی خان کے درمیان شدید تلخ کلامی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک جا پہنچا، جس پر کمیٹی کے دیگر ارکان نے مداخلت کرکے دونوں سینیٹرز کو الگ کیا۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت ہوا، جس میں گوجرانوالہ میں نصف تنخواہ ملنے پر سینٹری ورکر ذیشان کی خودکشی اور صوبے بھر میں خاکروبوں کو درپیش مسائل پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران ڈی جی ستھرا پنجاب اور گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمیٹی کے سی ای او نے کمیٹی ارکان کو متعلقہ معاملات پر بریفنگ دی، تاہم ارکان ان کے جوابات سے مطمئن دکھائی نہیں دیے۔
رپورٹ کے مطابق بحث کے دوران عابد شیر علی نے ایمل ولی خان سے کہا کہ ستھرا پنجاب کی ٹیم کا مؤقف بھی سنیں۔ اس پر ایمل ولی خان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں روکنے والے عابد شیر علی کون ہوتے ہیں اور وہ ان کے باس نہیں ہیں۔
اس پر عابد شیر علی نے بھی جواب دیا اور دونوں کے درمیان بحث شدت اختیار کرگئی۔ چند ہی لمحوں میں معاملہ سخت جملے بازی اور ایک دوسرے کو جواب دینے تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق عابد شیر علی نے ایمل ولی خان سے کہا کہ وہ ان سے طریقہ سیکھنے نہیں بیٹھے، جس پر ایمل ولی خان نے بھی جواب دیا کہ وہ بھی یہاں اس مقصد کے لیے نہیں بیٹھے۔
اجلاس میں دونوں سینیٹرز کے درمیان مزید تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ عابد شیر علی نے ایمل ولی خان کو کہا کہ وہ یہاں ایس ایچ او نہیں لگے ہوئے، جبکہ ایمل ولی خان نے جواباً پوچھا کہ انہیں کیا تکلیف ہے۔
عابد شیر علی نے کہا کہ انہیں کوئی تکلیف نہیں، تاہم ایمل ولی خان کو اپنا رویہ درست رکھنے اور طریقے سے بات کرنے کا کہا۔
دونوں ارکان کے درمیان لفظی تکرار بڑھنے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی اور ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ کمیٹی کے دیگر ارکان نے فوری طور پر مداخلت کی اور دونوں کو الگ کرکے معاملہ ختم کرانے کی کوشش کی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بنیادی طور پر صفائی کے شعبے سے وابستہ ملازمین کے مسائل زیر بحث تھے۔ گوجرانوالہ کے سینٹری ورکر ذیشان کی نصف تنخواہ ملنے کے معاملے پر خودکشی اور دیگر خاکروبوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا گیا۔
کمیٹی ارکان نے حکام کی بریفنگ اور جوابات پر سوالات اٹھائے، جس کے دوران اجلاس کا ماحول پہلے ہی سخت ہوگیا تھا۔ اسی دوران عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان اختلاف رائے نے شدت اختیار کرلی۔
سینیٹ کے ریکارڈ کے مطابق عابد شیر علی اور ایمل ولی خان دونوں سینیٹ کے ارکان ہیں اور مختلف قائمہ کمیٹیوں میں بھی رکن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیوں کی فہرست میں دونوں کے نام شامل ہیں۔
اجلاس میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کمیٹی کے دیگر ارکان کی جانب سے معاملہ قابو میں لایا گیا، تاہم واقعے نے پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں ارکان کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
واضح رہے کہ دستیاب رپورٹ کے مطابق معاملہ بحث و اختلافِ رائے سے شروع ہوا اور بعد ازاں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی نوبت تک پہنچا