سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں سرکاری اسپتالوں کے لیے خریدی گئی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں عرصہ دراز سے خراب اور تباہ حال پڑی ہیں، جبکہ دوسری جانب ان گاڑیوں کے پیٹرول اور ڈیزل کے اخراجات مبینہ طور پر سرکاری ریکارڈ میں جاری رہنے کا انکشاف ہوا ہے ، جس نے عوامی وسائل کے استعمال پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسپتالوں میں متعدد گاڑیاں اس وقت قابلِ استعمال نہیں، جس کے باعث سرکاری وسائل سے خریدی گئی مہنگی گاڑیوں سے مطلوبہ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ، ایک طرف اسپتال بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں تو دوسری جانب قیمتی سرکاری گاڑیوں کی دیکھ بھال اور اخراجات کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔
اکاؤنٹنٹ کے اثاثوں سے متعلق بھی سوالات
ذرائع کے مطابق ڈی ایچ کیو اسپتال کے ایک اکاؤنٹنٹ کے اثاثوں پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں جہاں مذکورہ شخص کے نام سے ایم بی ایس کے نام پر یوٹونگ بسیں بھی چل رہی ہیں جو طویل عرصے سے عمرکوٹ ڈی ایچ او آفس میں اکاؤنٹنٹ تعینات ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو بھی بنیادی طبی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جہاں مریض علاج کیلئے دربدر خار ہوتے نظر آتے ہیں ، ہسپتال میں کسی بھی قسم کی سہولیات نظر نہیں آتی ہیں ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عمر کوٹ کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں اورعوام یہ مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان ہسپتالوں کی خراب گاڑیوں، ان کے ایندھن کے اخراجات، سرکاری وسائل کے استعمال اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کے اثاثوں سے متعلق معاملات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور اگر کسی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔