امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے فوری خاتمے اور مہنگائی کے تدارک کے لیے حکومت کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا حتمی الٹی میٹم دے دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک بھر میں 25 روز سے جاری دھرنوں کے بعد اگر 10 ستمبر کو مذاکرات ناکام رہے تو سخت ترین احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی معاشی پالیسیوں اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کا عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ محض حکومتی نااہلی اور معاشی بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔
ایک سال کے دوران عوام کی جیبوں سے 1567 ارب روپے محض ’پیٹرولیم لیوی‘ کی مد میں نکالے گئے ہیں، جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔
انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا تو جماعت اسلامی اپنی احتجاجی تحریک کو مزید تیز کر دے گی۔
32 مقامات پر دھرنے اور 10 ستمبر کے مذاکرات
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے تحت ملک کے 32 مختلف مقامات پر دھرنے مسلسل 25 روز سے جاری ہیں اور کارکنان کا جذبہ بلند ہے۔
حکومت نے مذاکرات کے لیے 3 دن کا وقت مانگا ہے اور 10 ستمبر کو ہونے والی بات چیت کے بعد ہی آئندہ کے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اگر حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی اور عوامی مطالبات پر کان نہ دھرا تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔
مافیاز کا راج اور عوامی مسائل
ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت ملک میں بنیادی انسانی سہولیات ناپید ہو چکی ہیں اور ہر شعبے پر مافیاز کا راج قائم ہے۔
حکومت جب تک عام عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم نہیں کرتی، اس وقت تک ملکی معاشی صورتحال میں کسی قسم کا سدھار یا بہتری ممکن نہیں ہو سکتی۔
پاکستان میں بجلی کے بھاری بلوں، پیٹرول کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گرانفروشی کے خلاف جماعت اسلامی نے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
عوام پر عائد اضافی ٹیکسوں بالخصوص پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی دھرنوں کو ایک ماہ ہونے کو ہے، جس کے دوران ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔
حکومت اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان اس سے قبل بھی مذاکراتی ادوار ہو چکے ہیں، تاہم مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سیاسی و عوامی تناؤ برقرار ہے۔
واضح رہے کہ حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے لانگ مارچ کا الٹی میٹم اور 1567 ارب روپے کی لیوی کا حوالہ حکومت پر شدید سیاسی و معاشی دباؤ بڑھانے کا باعث بنے گا۔
موجودہ وفاقی حکومت ایک طرف عالمی مالیاتی ادارے کی سخت شرائط اور ریونیو اہداف کی پابند ہے تو دوسری طرف سڑکوں پر بڑھتا ہوا عوامی غصہ اس کے لیے انتظامی فیصلے کرنا مشکل بنا رہا ہے۔
10 ستمبر کا دن اس سیاسی کشمکش کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے؛ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں کچھ ریلیف نہ دیا تو اسلام آباد کا رخ کرنے والی احتجاجی کال سے ملک میں نیا انتظامی و معاشی بحران جنم لے سکتا ہے۔