پی ایم ڈی سی کا افغان طلبا کی بے دخلی سے متعلق فیصلہ لائق تحسین ہے، فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے طلبا کی ’’آزاد ڈیجیٹل‘‘ سے گفتگو

پی ایم ڈی سی کا افغان طلبا کی بے دخلی سے متعلق فیصلہ لائق تحسین ہے، فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے طلبا کی ’’آزاد ڈیجیٹل‘‘ سے گفتگو

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے میڈیکل کے طلبا نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے افغان طلبا کی پاکستان سے بے دخلی کے فیصلے کو سراہا ہے۔

ایک طالب علم نے کہا کہ ان کے خیال میں پی ایم ڈی سی کا افغان طلبا کو واپس اپنے ملک جا کر تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ اچھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کے خلاف بھارت مہم چلاتا ہے تو افغان طلبا بھارت کے حق میں بات کرتے ہیں، تو پھر وہ بھارت جا کر کیوں نہیں پڑھتے اور پاکستان کیوں آتے ہیں۔

ایک اور طالب علم نے پی ایم ڈی سی کے فیصلے کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کافی عرصہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کئی سال سے افغان شہریوں کی میزبانی کرتا آ رہا ہے، تاہم ان کے بقول افغان شہری شروع دن سے پاکستان کے خیر خواہ نہیں رہے۔ طالب علم نے کہا کہ بہترین حل یہی ہے کہ وہ افغانستان جائیں اور بھارت جا کر تعلیم حاصل کریں، پاکستان میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔

ایک اور طالب علم نے کہا کہ ہر ملک کی اپنی پالیسی ہوتی ہے اور پاکستان وہ واحد ملک ہے جسے دنیا تسلیم کرتی ہے کہ اس نے کئی سال تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور بہترین انداز میں میزبانی کی۔ ان کے مطابق اب وہاں سیٹلمنٹ ہو گئی ہے اور نئی حکومت آ چکی ہے، جس کا اپنا نظام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک اپنی پالیسی اور اپنے مفاد کو دیکھتا ہے، اس لیے ان کے خیال میں پاکستان کے مفاد میں یہی ہے کہ جو جس ملک میں ہے وہ اپنے ملک واپس جائے۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالب علم نے کہا کہ پاکستان نے عرصہ دراز سے افغان شہریوں کی بڑی خدمت کی، انہیں پاکستان میں بسایا اور کام کاج کے مواقع فراہم کیے، تاہم ان کے بقول انہوں نے ہمیشہ پاکستان کی مخالفت کی اور بھارت کا ساتھ دیا۔ طالب علم نے کہا کہ افغان شہریوں کو پاکستان سے باہر نکالنے کا موجودہ فیصلہ پاکستان کے لیے بہت بہتر ہے۔

Related Articles