تقریباً ہر شخص کو دنیا گھومنے اور نئے مقامات دیکھنے کا شوق ہوتا ہے، لیکن بہت کم لوگ اس خواب کو حقیقت میں بدل پاتے ہیں۔چین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیاحت کے شوق کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا اور مسلسل 33 سال تک دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں کا سفر کرتا رہے۔
53 سالہ چن جینوئی نے اس طویل سفر کے دوران 233 ممالک اور خطوں کی سیاحت کی اور 33 سال بعد اپنے آبائی قصبے ژوجی واپس پہنچ گئے۔چن جینوئی صوبہ ژے۷جیانگ سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک مشینری کمپنی کے مالک ہیں۔ انہوں نے دنیا گھومنے کا آغاز 1993 میں سنگاپور، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے سفر سے کیا تھا۔
اس وقت انٹرنیٹ آج کی طرح عام نہیں تھا، اس لیے چن جینوئی کا کہنا تھا کہ وہ خود دنیا کو دیکھنا چاہتے تھے اور مختلف معاشروں اور ثقافتوں کو قریب سے سمجھنے کے خواہشمند تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے طویل سفر کے باوجود انہوں نے اپنے کاروبار اور خاندان کو نظر انداز نہیں کیا۔ وہ کئی مرتبہ چین واپس آتے، تقریباً ایک ماہ قیام کرتے اور پھر اگلے سفر پر روانہ ہوجاتے۔
33 سالہ سفر کے دوران انہوں نے دنیا کے کئی دشوار گزار علاقوں کا رخ کیا، جن میں قطبی خطے بھی شامل ہیں۔ نومبر 2015 میں انہوں نے پہلی مرتبہ انٹارکٹیکا جانے کی کوشش کی، تاہم راستے میں بحری جہاز خراب ہونے کے باعث یہ سفر ناکام ہوگیا۔ چند ماہ بعد جنوری 2016 میں وہ بالآخر انٹارکٹیکا پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
اسی طرح نیوزی لینڈ کے ایک چھوٹے سے جزیرے ٹوکی لاؤ تک پہنچنا بھی ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ پہلی کوشش ناکام ہونے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد وہ وہاں پہنچ سکے۔ سفر کے دوران انہیں کئی غیرمتوقع حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ افریقا میں انہیں ملیریا ہوگیا جبکہ یونان کے سفر کے دوران زلزلے کا تجربہ بھی ہوا۔ تاہم ان مشکلات نے انہیں مشکل حالات سے نمٹنے کا مزید حوصلہ دیا۔
چن جینوئی کے مطابق ان کا مقصد صرف مشہور سیاحتی مقامات دیکھنا نہیں تھا۔ وہ ہر جگہ زیادہ وقت گزارنے اور مقامی لوگوں، ثقافت اور طرز زندگی کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ دنیا کے سفر کے دوران انہوں نے 198 ممالک کی کرنسیاں بھی جمع کیں، جنہیں بعد میں ایک فلاحی ادارے کو عطیہ کردیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق 33 سال پر محیط اس سفر پر انہوں نے تقریباً 15 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جو پاکستانی کرنسی میں 41 کروڑ روپے سے زائد بنتے ہیں۔ اب دنیا کے طویل سفر کے اختتام پر چن جینوئی نے اپنی زندگی کا اگلا مرحلہ خاندان کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ اب وہ اپنا زیادہ وقت بچوں اور والدین کے ساتھ گزاریں گے۔