مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے جہاں دنیا کے لیے نئی سہولتوں کے دروازے کھولے ہیں، وہیں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات پر بھی ماہرین کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
اے آئی کمپنی انتھروپک سے وابستہ ایک سیفٹی محقق نے خبردار کیا ہے کہ اس بات کا تقریباً 10 فیصد امکان موجود ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ انتھروپک کے محقق جیکب کوسن نے کمپنی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف کمپنیوں کے درمیان ایسے سپر انٹیلی جنس سسٹمز تیار کرنے کی دوڑ جاری ہے جو خود اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں گے، جبکہ اس عمل میں ’ہماری زندگیوں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے‘۔
خود کو بہتر بنانے والے اے آئی سسٹمز سے مراد ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو انسانی مداخلت کے بغیر اپنی کارکردگی اور صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنے کے قابل ہو۔ فی الحال اس نوعیت کے مکمل خودمختار سسٹمز موجود نہیں، تاہم بڑی اے آئی کمپنیاں اس سمت میں تحقیق کر رہی ہیں۔
جیکب کوسن نے خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی کی طاقت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق مستقبل میں اے آئی ایسے طاقتور سسٹمز میں تبدیل ہوسکتی ہے جو سائبر سسٹمز کو ہیک کرنے، مختلف شعبوں میں انتہائی تیزی سے تبدیلی لانے اور بڑے پیمانے پر اختیار اور وسائل حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایسے اے آئی سسٹمز کی تیاری کی طرف بڑھ رہی ہے جن میں اس دہائی کے اختتام تک انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہونے کی صلاحیت ہوسکتی ہے۔ جیکب کوسن کے بیان پر انتھروپک کی سائنسی ٹیم کے سربراہ ایون ہیوبینگر نے بھی ردعمل دیا اور ان کے خدشات کو درست قرار دیا۔
ہیوبینگر کے مطابق وہ بھی اس امکان کو سنجیدہ سمجھتے ہیں کہ انتہائی طاقتور اے آئی مستقبل میں انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ذاتی اندازے کے طور پر کہا کہ انہیں تقریباً 10 فیصد امکان نظر آتا ہے کہ آئندہ ایک دہائی کے دوران ایسا منظرنامہ سامنے آسکتا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتھروپک کی جانب سے خطرات کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، لیکن کمپنی کے پاس فی الحال سپر انٹیلی جنس سے وابستہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی مکمل منصوبہ موجود نہیں۔
ان کے مطابق موجودہ اے آئی ماڈلز سے لاحق خطرات نسبتاً کم ہیں، اصل تشویش مستقبل میں انتہائی طاقتور سپر انٹیلی جنس سسٹمز کے وجود میں آنے کی ہے، اور اس شعبے میں پیشرفت توقعات سے زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے۔ انتھروپک کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کے یہ خدشات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کو مزید طاقتور اور خودمختار بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں، جس کے باعث ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اس کی حفاظت اور انسانی نگرانی کا سوال بھی پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔