بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی، سرفراز بگٹی

بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی، سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جاری رہے گی، سول اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متفق اور یکسو ہے، اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہفتہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں قومی میڈیا کے اینکرز، سینئر صحافیوں اور دیگر نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے بلوچستان کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں، اگر صوبے میں نئے صوبے بنائے جاتے ہیں تو ان کی تشکیل لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے حکومت میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق سوال پر کہا کہ بلوچستان میں کسی ڈھائی، ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا انہیں علم نہیں۔ حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے، تاہم جب تک وہ منصب پر ہیں عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔

کرپشن کے حوالے سے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کرسکتے، تاہم ماضی کے مقابلے میں بلوچستان میں کرپشن میں کمی ضرور آئی ہے۔ تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری محکموں میں میرٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی توجہ ترقیاتی عمل کو مؤثر، نتیجہ خیز اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر مرکوز ہے۔

وزیراعلیٰ نے غیر ملکی شہریوں کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔

لاپتہ افراد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس مسئلے کو قومی میڈیا اور دیگر فورمز پر بعض اوقات درست تناظر کے بغیر بھی پیش کیا جاتا رہا ہے، جس کے باعث صورتحال کی مکمل اور درست تصویر سامنے نہیں آتی۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صوبے کے سماجی و اقتصادی شعبوں، معدنیات و کان کنی اور امن و امان سے متعلق اہم بریفنگز بھی منعقد ہوئیں۔ بریفنگز میں صوبائی حکومت کی حکمت عملی، جاری منصوبوں اور عوام کو فراہم کیے جانے والے ثمرات کا جائزہ لیا گیا۔

وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی بریفنگ میں سماجی و اقتصادی شعبوں، گورننس، سروس ڈیلیوری، ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

وزارتِ معدنیات و وسائل کی بریفنگ میں بلوچستان میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے کی استعداد، جاری منصوبوں اور اس شعبے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ معدنی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر صوبے کے عوام کے لیے معاشی اور دیگر فوائد پیدا کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔

وزارتِ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے امن و امان کی صورتحال، پروونشل ایکشن پلان، پولیس اصلاحات اور لیویز فورس کے پولیس میں انضمام سے متعلق پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ سیف سٹی منصوبے، قانون سازی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا۔

 بریفنگز کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن ہوا، جس میں قومی میڈیا کے نمائندوں نے صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقی، سیاسی معاملات اور دیگر اہم امور سے متعلق سوالات کیے، جن کے جواب میں میر سرفراز بگٹی نے صوبائی حکومت کے مؤقف اور پالیسی ترجیحات کی وضاحت کی۔

Related Articles