پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ، جماعت اسلامی کی 6 شاندار تجاویز سامنے آگئیں

پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ، جماعت اسلامی کی 6 شاندار تجاویز سامنے آگئیں

جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں حکومت کو 6 نکاتی معاشی خاکہ پیش کر دیا ہے، جن پر عمل درآمد سے نہ صرف کھربوں روپے کی بچت ہوگی بلکہ قومی آمدنی میں بھی ہوشربا اضافہ ممکن ہے۔

جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے اہم رکن نوید علی بیگ نے ان تجاویز کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اگر مقامی تیل کی قیمتوں، ریفائنری مارجنز، شرح سود، ’آئی پی پیز‘معاہدوں، سبسڈی اور ’ایف بی آر‘ کے نظام میں اصلاحات لائے تو لیوی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

مقامی تیل کی قیمتوں کا حقیقت پسندانہ تعین

انہوں نے بتایا کہ پاکستان سالانہ تقریباً 16 ارب لیٹر پیٹرول اور ڈیزل استعمال کرتا ہے، جس میں سے 4 ارب لیٹر مقامی سطح پر پیدا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی کا 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان، پیٹرول 225 روپے پر لانے کا مطالبہ

نوید بیگ کے مطابق اگر اس مقامی تیل کی قیمت عالمی منڈی کے 100 ڈالر فی بیرل کے حساب سے طے کرنے کے بجائے مقامی پیداواری لاگت کے مطابق رکھی جائے، تو ملکی خزانے کو 120 ارب روپے کی خطیر بچت ہو سکتی ہے۔

ریفائنری مارجنز کا خاتمہ

درآمد شدہ ریفائنڈ ایندھن اور خام تیل سے مقامی سطح پر تیار ہونے والے ایندھن کے درمیان تقریباً 21 روپے کا واضح فرق موجود ہے۔

تجویز دی گئی ہے کہ اس مارجن کو ختم کر کے فوری طور پر 185 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔ اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے کسی طویل انتظامی عمل کی بھی ضرورت نہیں۔

قرضوں کے اخراجات اور شرح سود میں کمی

حکومتی قرضوں پر بات کرتے ہوئے تجویز دی گئی کہ شرح سود کو موجودہ 11.5 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد پر لایا جائے۔

حکومت اس وقت سود کی مد میں 8 کھرب روپے ادا کر رہی ہے، جس کا بڑا حصہ تجارتی بینکوں کو جاتا ہے۔ اس معمولی کمی سے بھی سالانہ 1 کھرب روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔

آئی پی پیز‘ معاہدوں پر ازسرنو مذاکرات’

جماعت اسلامی نے اپنے حالیہ مطالبات کو دہراتے ہوئے باقی ماندہ ‘آئی پی پیز’ کے ساتھ ازسرنو مذاکرات پر زور دیا ہے۔ 15 سے 20 کمپنیوں کے ساتھ نظرثانی سے بجلی 10 سے 15 فیصد سستی ہوئی ہے۔

اگر یہی عمل باقی ماندہ کمپنیوں کے ساتھ دہرایا جائے تو کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں مزید 400 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔

غیر ضروری سبسڈی کا خاتمہ

تمام شعبوں میں دی جانے والی غیر ضروری حکومتی سبسڈی ختم کرنے سے 1.1 ٹریلین روپے کی بچت ممکن ہے۔ واضح رہے کہ عالمی بینک بھی کئی بار ایسے شعبوں کی نشاندہی کر چکا ہے جہاں ان سبسڈیز کا کوئی معاشی جواز نہیں بنتا۔

’ایف بی آر‘ میں اصلاحات اور ٹیکس خلا کا خاتمہ

آخری اور اہم ترین تجویز ‘ایف بی آر’ کی کارکردگی اور ٹیکس چوری کے حوالے سے ہے۔ نوید بیگ کے مطابق ٹیکس کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے کی براہ راست کٹوتیوں اور درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی کی صورت میں خود بخود وصول ہو رہا ہے۔

اگر ‘ایف بی آر’ اپنی روایتی ناکامی سے نکل کر کم ٹیکس دینے والے شعبوں کو نیٹ میں لائے تو ملکی آمدنی میں 3.4 ٹریلین روپے کا حیران کن اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم لیوی ایک عرصے سے عوام اور حکومت کے درمیان شدید تناؤ کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط کے دباؤ میں حکومت مسلسل لیوی میں اضافہ کر رہی ہے، جس نے ہوشربا مہنگائی کو جنم دیا ہے۔

مزید پڑھیں:امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سرکاری ملازمین کی آواز بن گئے

اسی تناظر میں جماعت اسلامی نے حالیہ دنوں میں ملک گیر احتجاج اور دھرنے دیے، جس کے بعد حکومت مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوئی۔

یہ 6 تجاویز اسی مذاکراتی عمل کا حصہ ہیں تاکہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے متبادل اور حقیقت پسندانہ ذرائع تلاش کیے جا سکیں۔

ایک معاشی تجزیہ کار کے زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کی یہ تجاویز محض روایتی سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک ٹھوس اور قابلِ عمل معاشی بلیو پرنٹ پیش کرتی ہیں۔

خاص طور پر مقامی تیل کی قیمتوں کو عالمی منڈی کی مصنوعی برابری سے الگ کرنا اور ‘آئی پی پیز’ کے ساتھ کیپیسٹی پیمنٹس کا دیرینہ تنازع حل کرنا، ملکی معیشت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتے ہیں۔

تاہم، ان تجاویز، بالخصوص ’ایف بی آر‘ کی خامیوں کو دور کرنے اور طاقتور غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے جس بے پناہ سیاسی عزم کی ضرورت ہے، وہ موجودہ مصلحت پسند حکومتی ڈھانچے میں ایک کڑا امتحان دکھائی دیتا ہے۔ اگر حکومت دباؤ سے آزاد ہو کر ان میں سے نصف تجاویز پر بھی دیانتداری سے عمل کر لے تو پیٹرولیم لیوی جیسے جابرانہ ٹیکسز کی قطعی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔

Related Articles