کیا ہائیکورٹ پیٹرول کی قیمتیں کم کر د ے گی؟ بڑے فیصلے کا انتظار

کیا ہائیکورٹ پیٹرول کی قیمتیں کم کر د ے گی؟ بڑے فیصلے کا انتظار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی گئی جس میں حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مکمل طریقہ کار ٹیکسز اور مختلف مارجنز کا ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور قلیل وقفوں سے اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق 7 سے 11 ستمبر کے دوران صرف پانچ روز میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 29 روپے 95 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 25 روپے 27 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ تازہ اضافے کے بعد 12 سے 14 ستمبر کیلئے پیٹرول 375 روپے 82 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈیزل کی قیمت 400 روپے فی لیٹر کی حد عبور کرچکی ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے براہ راست اثرات ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، کاروبار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گیس کا گردشی قرض کیسے ختم ہوگا؟ حکومت نے تین سالا منصوبہ تیار کر لیا

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے سے سامان کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر تنخواہ دار اور کم آمدن والے طبقات پر پڑ رہا ہے۔

درخواست میں پاکستان میں ڈیزل کی قیمت کا خطے کے دیگر ممالک سے تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق پاکستان میں ڈیزل بنگلہ دیش کے مقابلے میں تقریباً 140 روپے، بھارت سے 122 روپے، افغانستان سے 106 روپے جبکہ سری لنکا کے مقابلے میں تقریباً 77 روپے فی لیٹر مہنگا ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت، متعلقہ اداروں اور دیگر فریقین سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو پاکستان میں صارفین تک منتقل کرنے کیلئے کون سا فارمولہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

درخواست گزار نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، ٹیکسز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن کی مکمل تفصیلات بھی عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں اس نوعیت کی درخواست میں پہلے بھی عدالت نے وفاقی حکومت، اوگرا اور دیگر متعلقہ فریقین سے جواب طلب کیا تھا اور درخواست گزار کی جانب سے لیویز اور قیمتوں کے فارمولے کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت نے رواں ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ 11 ستمبر کو پیٹرول کی قیمت 370 روپے 80 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 398 روپے 4 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، جبکہ اس کے بعد ایک اور اضافے کے نتیجے میں 12 ستمبر سے پیٹرول 375 روپے 82 پیسے اور ڈیزل 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا۔

حالیہ مسلسل اضافوں کے باعث پیٹرولیم قیمتوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر عوامی اور عدالتی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں بار بار ردوبدل کے بجائے ایک واضح، شفاف اور قابلِ فہم طریقہ کار عوام کے سامنے ہونا چاہیے تاکہ صارفین کو معلوم ہو سکے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کس بنیاد پر مقرر کی جاتی ہے۔

درخواست میں لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے مکمل فارمولے، لیویز، ٹیکسز اور مارجنز کا ریکارڈ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جائے اور عوام کو غیر ضروری معاشی بوجھ سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے مناسب احکامات جاری کیے جائیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles