یمن کا جہنم کا کنواں، صدیوں پرانے خوف کی حقیقت سامنے آگئی

یمن کا جہنم کا کنواں، صدیوں پرانے خوف کی حقیقت سامنے آگئی

یمن کا غار برہوت صدیوں سے عرب دنیا کے پراسرار ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ مقامی طور پر اسے ’مرنے کا کنواں‘ اور ’جہنم کا کنواں‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قدرتی غار یمن کے مشرقی صوبے المہرہ کے صحرائی علاقے میں واقع ہے۔

غار کا دہانہ تقریباً 30 میٹر چوڑا ہے جبکہ اس کی گہرائی تقریباً 112 میٹر تک بتائی جاتی ہے۔ صدیوں سے اس جگہ کے بارے میں مختلف خوفناک کہانیاں اور روایات مشہور رہی ہیں۔

جنات اور بدروحوں سے متعلق عجیب روایات

مقامی لوگوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا تھا کہ غار برہوت جنات اور بدروحوں کا ٹھکانہ ہے۔ غار کی گہرائی سے آنے والی عجیب آوازوں اور ناگوار بو نے بھی ان روایات کو مزید تقویت دی۔ اسی وجہ سے لوگ طویل عرصے تک اس جگہ کے قریب جانے سے گریز کرتے رہے اور اسے ایک خوفناک اور منحوس مقام سمجھا جاتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:سمندر میں 438 دن، ماہی گیر کی حیران کن بقا کی داستان

ماہرین غار کی تہہ تک پہنچ گئے

2021 میں عمان سے تعلق رکھنے والی غاروں کی تلاش کرنے والی ماہر ٹیم نے غار برہوت کی گہرائی میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ ماہرین پہلی بار اس کی تہہ تک پہنچے اور وہاں جو کچھ دیکھا، وہ مقامی داستانوں سے بالکل مختلف تھا۔

غار کے اندر ماہرین کو کسی جن یا پراسرار مخلوق کے بجائے قدرت کے حیرت انگیز مناظر دکھائی دیے۔ وہاں غاری موتی، زیر زمین پانی کے بہاؤ اور مختلف جاندار موجود تھے۔غار کے اندر سانپوں، چمگادڑوں اور پرندوں کی موجودگی بھی ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:نوجوانوں کو شادی کا جھانسہ دے کر لوٹنے والا گروہ گرفتار

بدبو کا راز بھی سامنے آگیا

غار سے آنے والی بدبو کو بھی طویل عرصے تک پراسرار سمجھا جاتا رہا، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی وجہ مردہ پرندوں اور دیگر جانوروں کی باقیات تھیں۔ سائنسی جائزے کے مطابق غار برہوت کسی شیطانی طاقت کا ٹھکانہ نہیں بلکہ ایک قدرتی ارضیاتی تشکیل ہے۔ یہ ایک بڑے سنک ہول کی شکل میں موجود ہے جسے پانی اور چٹانوں کے طویل عرصے تک جاری رہنے والے قدرتی عمل نے تشکیل دیا۔

غار برہوت کی تلاش نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ قدرتی دنیا کے کئی پراسرار مقامات کے پیچھے خوفناک کہانیوں کے بجائے حیرت انگیز سائنسی حقائق چھپے ہوتے ہیں۔

editor

Related Articles