مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات پر ٹیکنالوجی کی دنیا میں بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔ ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین نے بھی اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو داریو اموڈے کے خدشات کی حمایت کردی ہے۔
داریو اموڈے نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کی موجودہ رفتار اگر اسی طرح جاری رہی تو آنے والے مہینوں میں اس کے خطرات بہت زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔ ایلون مسک نے داریو اموڈے کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی بات سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ ان کے مطابق وہ خود بھی طویل عرصے سے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب سام آلٹمین نے بھی داریو اموڈے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو مناسب انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ داریو اموڈے نے خبردار کیا تھا کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی صرف 6 سے 12 ماہ کے اندر ایسے مرحلے تک پہنچ سکتی ہے جہاں پورے انٹرنیٹ کو ہائی جیک کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے، جس کے نتیجے میں کھربوں ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔
کلاڈ اے آئی تیار کرنے والی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کی رفتار کچھ کم ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود مصنوعی ذہانت کی ترقی تیز ہی محسوس ہوگی، تاہم اضافی وقت کو حفاظتی اقدامات بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
داریو اموڈے نے یہ بھی بتایا کہ اینتھروپک بیرونی ماہرین کو اپنی اے آئی ٹیکنالوجی اور حفاظتی نظام کی جانچ کے لیے ملازمین جیسی رسائی دینے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ ممکنہ حفاظتی مسائل کی نشاندہی اور واقعات کی بروقت رپورٹنگ کی جاسکے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کی پوری صنعت سے بھی اپیل کی کہ وہ اسی طرح کے حفاظتی اقدامات اختیار کرے، تاکہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کو بھی قابو میں رکھا جاسکے۔