ویمنز ایشیا کپ، ٹرافی نہ لینے کا فیصلہ کس کا تھا؟ بھارتی کوچ کے تہلکہ خیز انکشاف نے تہلکہ مچا دیا

ویمنز ایشیا کپ، ٹرافی نہ لینے کا فیصلہ کس کا تھا؟ بھارتی کوچ کے تہلکہ خیز انکشاف نے تہلکہ مچا دیا

بھارتی ویمن کرکٹ ٹیم کے کوچ نے انکشاف کیا ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر کیا گیا۔

کھیلوں کی دنیا میں اس وقت ایک نیا تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بھارتی ویمن کرکٹ ٹیم کے کوچ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اہم حقائق کا اعتراف کیا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ویمنز ایشیا کپ کی ٹرافی ٹیم کو کب ملے گی، تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ ٹرافی کب حوالے کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ویمنز ایشیاکپ ٹی20: پاکستان نے نیپال کو 9 وکٹوں سے شکست دیدی

کوچ نے واضح کیا کہ کھلاڑیوں نے اپنی مرضی سے کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ ویمن ٹیم نے ٹرافی نہ لینے کا فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی واضح ہدایات کے تحت کیا۔ بورڈ کے سخت احکامات کے مطابق ٹیم نے اس فیصلے پر من و عن عمل کیا۔

مردوں کے نقشِ قدم پر متنازع روایت

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بھارتی ویمنز ٹیم نے بھی اپنی مینز ٹیم کے پرانے انداز میں چلتے ہوئے ایشیا کپ کے فائنل کے بعد تنازع کھڑا کر دیا۔ ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی کے ہاتھوں سے ٹرافی لینے سے صریحاً انکار کر دیا۔

پاک بھارت سیاسی کشیدگی اور اس کا اثر کھیلوں بالخصوص کرکٹ پر پڑنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں مختلف ٹورنامنتس اور ایونٹس کے دوران ایوارڈز کی تقسیم، ہینڈ شیک تنازعات اور بورڈز کی سطح پر ہونے والے فیصلوں نے کھیل کے میدان کو سفارت کاری کی نذر کیا ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت ٹرافی سے انکار کرکے اپنی خفت نہیں مٹا سکتا، طلال چوہدری

ایشین کرکٹ کونسل کے پلیٹ فارم پر اس قسم کے بائیکاٹ یا علامتی اقدامات ماضی میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں سیاسی دباؤ براہِ راست کھلاڑیوں کے رویوں کو متاثر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی ویمن ٹیم کا ایشین کرکٹ کونسل کے صدر سے ٹرافی لینے سے گریز محض ایک کھلاڑی کا ردِعمل نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے سیاسی محرکات اور بورڈ کی پالیسی کارفرما ہے۔

جب کھیل کے اداروں میں سیاسی تناؤ کو زبردستی داخل کیا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف اسپورٹس مین اسپرٹ مجروح ہوتی ہے بلکہ علاقائی کرکٹ کے تعلقات بھی کشیدہ ہوتے ہیں۔

بھارتی کوچ کا یہ بیان کھل کر اس بات کا ثبوت ہے کہ کھلاڑیوں کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، بلکہ دفاتر میں بیٹھے حکام کھیل کو جوڑنے کی بجائے تقسیم کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ایسے رویے ایشین کرکٹ کونسل کے تنظیمی ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔

Related Articles