یوکرین میں پولینڈ کی سرحد کے قریب روسی ڈرون حملے کے دوران سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور دیگر اعلیٰ یورپی سکیورٹی حکام ایک بڑے خطرے سے بال بال بچ گئے۔ حملہ ایک ایسے ریلوے روٹ پر کیا گیا جہاں سے کچھ دیر قبل یورپی حکام کی ٹرین گزر چکی تھی۔
ٹرین کے انجن کو نقصان
یوکرینی حکام کے مطابق یاہودین کے مقام پر ہونے والے ڈرون حملے میں ایک ٹرین کے انجن کو نقصان پہنچا تاہم کسی مسافر کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
حکام کے مطابق حملے کے بعد ٹرین میں موجود تمام مسافروں کو بحفاظت اتار لیا گیا۔ ریلوے انتظامیہ نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کیے تاکہ کسی ممکنہ مزید حملے سے مسافروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
سفارتی ٹرین بھی ممکنہ ہدف تھی
یوکرین کی سرکاری ریلوے کمپنی کے مطابق اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملے کا ہدف ایک سفارتی ٹرین بھی ہو سکتی تھی۔
بورس جانسن، برطانوی سکیورٹی مشیر جوناتھن پاول اور دیگر یورپی حکام کیف میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد اسی ریلوے لائن کے ذریعے واپس روانہ ہوئے تھے۔ حملہ ان کے گزرنے کے کچھ ہی دیر بعد کیا گیا۔
صرف 15 منٹ پہلے انخلا
ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ ٹرین کے مسافروں کو حملے سے تقریباً 15 منٹ قبل انخلا کا حکم دے دیا گیا تھا۔ بروقت کارروائی کے باعث مسافروں کو ٹرین سے باہر نکال لیا گیا اور بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکا۔
روس نے دوسری جانب دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں مغربی یوکرین کے ریلوے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سابق سی آئی اے سربراہ بھی قریب موجود تھے
حکام کے مطابق سابق امریکی سی آئی اے سربراہ اور ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس بھی حملے کے وقت یاہودین اسٹیشن پر موجود تھے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ ایک دوسری ٹرین میں سوار تھے۔
اس انکشاف کے بعد حملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ ایک ہی مقام پر متعدد اہم مغربی شخصیات کی موجودگی نے سکیورٹی خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔
بورس جانسن کا سخت ردعمل
سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے روسی حملے کو بے مقصد اور بے معنی قرار دیا۔ انہوں نے یوکرین کے لیے مزید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ روسی حملوں سے شہری اور بنیادی ڈھانچہ مسلسل خطرے میں ہے۔
یوکرین کا روس پر الزام
یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے دہشت گردی کا پیغام اب یورپی یونین اور نیٹو کی سرحدوں تک پہنچ رہا ہے۔
دوسری جانب پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی کارروائیوں میں شدت اختیار کرنا اب ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے اور روسی خطرہ پولینڈ کی سرحد کے مزید قریب پہنچ رہا ہے۔
خطے میں بڑھتے سکیورٹی خدشات
پولینڈ کی سرحد کے قریب ہونے والے اس ڈرون حملے نے یوکرین کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک میں بھی سکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ خاص طور پر اہم یورپی اور امریکی شخصیات کی موجودگی کے قریب حملے نے ریلوے اور دیگر اہم مواصلاتی راستوں کی حفاظت کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
حالیہ واقعے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے اثرات سرحدی علاقوں سے آگے تک پھیلنے کا خطرہ برقرار ہے۔ یورپی حکام کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ یوکرین مزید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔