مشرق وسطی میں کشیدگی،عمان میں آج ہونے والا اہم اجلاس ملتوی

مشرق وسطی میں کشیدگی،عمان میں آج ہونے والا اہم اجلاس ملتوی

 ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں اور انتظامات پر بات چیت کے لیے عمان میں آج ہونے والا اہم اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کے التوا کی تصدیق عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی کر دی ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ کی تصدیق

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اجلاس ملتوی ہونے کی تصدیق کی۔ تاہم انہوں نے اجلاس ملتوی کیے جانے کی فوری طور پر کوئی وجہ بیان نہیں کی اور نہ ہی مذاکرات کے لیے نئی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔

اجلاس کے التوا کے بعد یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آئندہ مذاکرات کب ہوں گے۔ فریقین کی جانب سے نئی تاریخ کے اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز پر بات چیت ہونا تھی

مجوزہ اجلاس میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مختلف ممکنہ انتظامات پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔ اس دوران سمندری راستے کی صورتحال اور اس سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر بات چیت متوقع تھی۔

 یہ بھی پڑھیں :ای سی سی اجلاس ،گندم، پیٹرولیم، روزویلٹ ہوٹل، کے فور منصوبے اور ریکوڈک کی سکیورٹی سمیت متعدد اہم معاملات کی منظوری

آبنائے ہرمز خطے میں ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایران کے علاوہ کئی خلیجی ممالک کی معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

عالمی توانائی کے لیے اہم راستہ

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا کی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور وہاں آزادانہ بحری آمدورفت کو نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی طاقتیں بھی خاص اہمیت دیتی ہیں۔ اس راستے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

مذاکرات کی اہمیت

ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ مذاکرات کو خطے میں سفارتی رابطوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا تھا۔ اجلاس میں ممکنہ انتظامات اور معاہدوں پر بات چیت سے سمندری سکیورٹی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق معاملات کو آگے بڑھانے کی توقع کی جا رہی تھی۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقیں بحیرۂ عمان میں شروع

تاہم اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت فی الحال رک گئی ہے۔ عمان کی جانب سے مذاکرات کی نئی تاریخ اور اجلاس ملتوی کیے جانے کی وجوہات سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔

خطے کی نظریں نئی تاریخ پر

اجلاس کے التوا کے باوجود ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق بات چیت کی اہمیت برقرار ہے۔ خطے میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی مسلسل ترسیل کے لیے بھی اس سمندری راستے کی صورتحال انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

اب تمام نظریں عمان کی جانب سے مذاکرات کی نئی تاریخ کے اعلان پر مرکوز ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اہم معاملات پر سفارتی بات چیت کب دوبارہ شروع ہوتی ہے۔

editor

Related Articles