زیلنسکی کا جوابی حملوں کا اعلان، کریملن نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

زیلنسکی کا جوابی حملوں کا اعلان، کریملن نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

 کریملن نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے جواب میں کارروائی سے متعلق بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔

روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ زیلنسکی کا تازہ بیان بھی اشتعال انگیز طرز عمل کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق یوکرینی قیادت کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

پیسکوف کی روسی میڈیا سے گفتگو

دیمتری پیسکوف نے روسی ٹی وی چینل ویستی کے صحافی پاویل زاروبن سے گفتگو کرتے ہوئے یوکرینی صدر کے بیان پر روسی مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ زیلنسکی کی جانب سے توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کارروائی کی بات کرنا کوئی الگ تھلگ بیان نہیں بلکہ ان کے بقول یہ پہلے سے جاری اشتعال انگیز سلسلے کا حصہ ہے۔

زیلنسکی نے کیا کہا تھا؟

اس سے قبل یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے صحافی فرید زکریا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے جواب میں کارروائی سے متعلق بیان دیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران امریکا سیزفائرکے بعد روس یوکرین میں بھی عارضی جنگ بندی

زیلنسکی کے اس بیان پر روس کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ کریملن نے اسے روس کے خلاف ممکنہ مزید کارروائیوں کی دھمکی کے طور پر دیکھا اور کہا کہ اس طرح کے بیانات کشیدگی کم کرنے کے بجائے اسے بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔

روسی معیشت کو نقصان پہنچانے کے منصوبے کا ذکر

دیمتری پیسکوف نے گفتگو کے دوران 40 روزہ منصوبے کا بھی حوالہ دیا جس کا مقصد روس اور اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا بتایا گیا ہے۔

کریملن کے ترجمان کے مطابق اس منصوبے کا ذکر اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کی نوعیت ہی ایسی تھی جسے کشیدگی بڑھانے کی جانب ایک سنگین قدم سمجھا جا سکتا ہے۔

کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

پیسکوف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایسے بیانات اور اقدامات دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق زیلنسکی کا حالیہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اسے کشیدگی میں اضافے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

روس اور یوکرین میں بڑھتا تناؤ

روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ مسلسل اہم ہدف بنا ہوا ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں جبکہ توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات شہری آبادی اور معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

  یہ بھی پڑھیں :پیوٹن سے وٹکوف اور کشنر کی 3 گھنٹے طویل ملاقات، روسی تجاویز لے کر امریکی وفد یوکرین روانہ

کریملن کی جانب سے زیلنسکی کے تازہ بیان پر ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ اشتعال انگیز بیانات اور جوابی کارروائیوں سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے ۔

editor

Related Articles