آٹا، دالیں، گھی اور چینی مہنگی ، نئی قیمتیں سامنے آ گئیں

آٹا، دالیں، گھی اور چینی مہنگی ، نئی قیمتیں سامنے آ گئیں

پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے کے بعد اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی سرکاری نرخ نامے اور بازار کے نرخوں میں نمایاں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ سبزیاں، دالیں آٹا  گھی اور چینی سمیت روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا سرکاری نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت کی جارہی ہیں  انتظامیہ کی جانب سے کارروائی اور قیمتوں پر مؤثر کنٹرول کے دعووں کے باوجود صارفین کو ریلیف نہیں مل رہا۔

وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ٹرانسپورٹ اور سپلائی کے اخراجات بڑھائے ہیں جس کے اثرات سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 17 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمتوں کا اشاریہ 0.49 فیصد بڑھا جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی 10.64 فیصد تک پہنچ گئی۔

تازہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اسی ہفتے ڈیزل کی قیمت میں 7.29 فیصد جبکہ پٹرول کی قیمت میں 6.40 فیصد اضافہ ہوا اس کے علاوہ لہسن چنے کی دال، مسور، مونگ، انڈوں اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پیٹرول کی قیمت 16 ستمبر کو مزید 4.10 روپے اضافے کے بعد 384.34 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 6.41 روپے اضافے کے بعد 415.83 روپے فی لیٹر ہوگیا تھا، جبکہ اس کے بعد بھی قیمتوں میں مزید اضافہ رپورٹ ہوا۔

اسلام آباد میں سبزیوں کے نرخ

اسلام آباد کی موجودہ مارکیٹ میں ٹماٹر تقریباً 280 سے 300 روپے فی کلو، پیاز 220 سے 240 روپے، آلو 44 سے 70 روپے، لہسن 400 سے 600 روپے، ادرک300 سے 550 روپے، شملہ مرچ 260 سے 300 روپے، بھنڈی 255 سے 265 روپے اور لیموں 320 سے 335 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کیلئے خوشخبری، سبسڈی کا طریقہ مزید آسان کر دیا

سرکاری نرخ ناموں اور بازار کے نرخوں میں بعض اشیا کے حوالے سے واضح فرق بھی سامنے آتا ہے۔ اسلام آباد مارکیٹ کمیٹی نے اگست میں چینی سمیت سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کے نرخ جاری کرتے ہوئے تاجروں کو مقررہ قیمتوں پر فروخت کی ہدایت کی تھی، تاہم صارفین کی شکایات کے مطابق متعدد مقامات پر عملی طور پر زیادہ قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔

آٹا، گھی، دالیں اور چینی بھی مہنگی

روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا میں بھی قیمتوں کا دباؤ برقرار ہے۔ حالیہ مارکیٹ سروے کے مطابق آٹے کی قیمت میں 10 سے 15 روپے تک اضافہ ہوا اور 15 کلو کا تھیلا ہول سیل میں تقریباً 2250 جبکہ ریٹیل میں 2550 روپے تک فروخت ہوا دال ماش، مسور، چنے کی دال، سرسوں کا تیل، کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا رجحان رپورٹ کیا گیا۔

اسلام آباد کے دستیاب قیمتوں کے اعدادوشمار میں 2.5 کلو گرام سبزی گھی کا ٹن تقریباً 1620 روپے اور ایک کلو پاؤچ تقریباً 650 روپے تک دکھایا گیا ہے جبکہ مسور، مونگ، ماش اور چنے کی دالوں کی قیمتیں بھی کئی سو روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں۔

ایک ماہ میں 20 فیصد سے زائد اضافے کا دعویٰ مگر اشیا کے لحاظ سے فرق

مارکیٹ میں صارفین اور دکانداروں کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران بعض اشیا کی قیمتوں میں 25 فیصد یا اس سے زیادہ اضافے کی شکایات سامنے آرہی ہیں، تاہم دستیاب سرکاری اعدادوشمار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام اشیائے خورونوش میں یکساں طور پر 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس کے برعکس اگست کے دوران قومی سطح پر پیاز کی قیمت میں ماہانہ بنیاد پر 45.87 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا آلو 6.82 فیصد، تازہ سبزیاں 5.50 فیصد، گندم 5.25 فیصد، چنے کی دال 4.77 فیصد اور آٹا 2.03 فیصد مہنگا ہوا۔

یعنی بعض اشیا میں ایک ماہ کے دوران 20 فیصد سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا جبکہ بعض میں اضافہ معمولی رہا یا قیمت میں کمی بھی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں مارکیٹ کی مجموعی صورتحال کو اشیائے ضروریہ پر بڑھتے ہوئے قیمتوں کے دباؤ کے طور پر دیکھا جارہا ہے، نہ کہ ہر شے میں یکساں 20 فیصد اضافے کے طور پر۔

سرکاری نرخ نامہ کچھ اور، بازار میں قیمت کچھ اور

شہریوں کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نرخ نامے جاری ہونے کے باوجود متعدد دکاندار ان نرخوں پر اشیا فروخت نہیں کررہے۔ خاص طور پر سبزیوں، پھلوں اور بعض کریانہ اشیا کے حوالے سے سرکاری نرخ اور کھلی مارکیٹ کے نرخ میں فرق صارفین کے لیے اضافی بوجھ بن رہا ہے۔

حکام کی جانب سے ماضی میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو منافع خوری اور زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کی جاتی رہی ہیں، جبکہ شہریوں کو اوورچارجنگ کی شکایات متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

تاہم بازاروں میں صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی شے مختلف علاقوں میں مختلف قیمت پر فروخت ہورہی ہے اور صارفین کا کہنا ہے کہ نرخ نامے صرف دکانوں پر آویزاں کرنے تک محدود رہ گئے ہیں۔

پٹرول مہنگا، ٹرانسپورٹ اور سپلائی لاگت کا دباؤ

ماہرین اور مارکیٹ ذرائع کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر مال برداری اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں منڈی سے شہر تک سبزیوں اور دیگر اشیا کی ترسیل مہنگی ہوجاتی ہے۔ حالیہ سرکاری اعدادوشمار میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کو ہفتہ وار مہنگائی بڑھنے کی بڑی وجوہات میں شمار کیا گیا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles