امریکی محکمہ دفاع کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد پینٹاگون کے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے، تاہم امریکی وزیر دفاع نے ان دعوؤں کو ’مکمل جھوٹ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے واشنگٹن پوسٹ کی چشم کشا رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران جنگ کے دوران کم از کم 22 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ تعداد پینٹاگون کے عوامی ڈیٹا بیس میں 18 ستمبر تک درج 18 ہلاکتوں سے واضح طور پر زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے ریکارڈ سے واقف 6 میں سے 5 حکام نے 22 ہلاکتوں کی تصدیق کی، جبکہ ایک اور اہلکار نے یہ تعداد 23 تک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ہلاکتوں کی نوعیت اور پینٹاگون کی خاموشی
امریکی حکام کا موقف ہے کہ ان تمام ہلاکتوں کا تعلق براہ راست جنگ سے نہیں ہے، بلکہ ان میں ایسے فوجی بھی شامل ہیں جو جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کے خطے میں تعینات تھے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس اور ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر سخت پابندیوں کے نئے قانون پر دستخط
اس کے علاوہ خطے میں موجود 3 امریکی کنٹریکٹرز بھی اس عرصے کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون نے اعداد و شمار کے اس فرق پر پوچھے گئے سوالات کا کوئی جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
زخمیوں کی تشویشناک تعداد
رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 820 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں دماغی چوٹوں کا شکار ہوئی ہے، جو جدید جنگی ہتھیاروں کے خطرناک اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
امریکی وزیر دفاع کی تردید
ان انکشافات پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے ان دعوؤں کو ’مکمل جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کی حقانیت اور ذرائع پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
This is DISGUSTING and FAKE. A complete LIE.
Shame on the Washington Post — they’re worse than Iranian state media. https://t.co/vU9OkSOnLB
— Pete Hegseth (@PeteHegseth) September 18, 2026


