مذاکرات برائے نام ہیں، فیصلے دو دن پہلے ہوچکے ہیں، شیر افضل مروت

مذاکرات برائے نام ہیں، فیصلے دو دن پہلے ہوچکے ہیں، شیر افضل مروت

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کو برائے نام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کے فیصلے دو روز پہلے ہی ہوچکے ہیں۔

شیر افضل مروت کے مطابق مذاکرات کے اختتام پر دونوں فریق انہیں کامیاب قرار دیں گے، جبکہ پی ٹی آئی اپنا مارچ ملتوی کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے اور ملاقاتیں بحال کرنے سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مارچ کی تیاری نہیں کی اور پارٹی ایک مشکل صورتحال میں پھنسی ہوئی ہے، تاہم مذاکرات کے نتیجے میں اسے فیس سیونگ مل جائے گی۔

شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ مارچ ملتوی ہونے کے بعد حکومت پی ٹی آئی کو نظر انداز کردے گی۔

یہ بھی پڑھیں: خون بہانے والوں سے مذاکرات کا پی ٹی آئی کا مطالبہ انتہائی گندی سوچ کا عکاس ہے، تحریک انصاف کے اپنے حامیوں کا شدید ردِ عمل

دوسری جانب پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ نہیں بلکہ مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا اور اس حوالے سے غیر مشروط اقدام کرنا چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے تشدد بڑھتا ہے، کم نہیں ہوتا۔ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، فتنہ الخوارج اور دیگر کے حملوں میں لوگ، فوجی اور پولیس اہلکار شہید ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا موقف واضح ہے کہ دہشتگردی ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ فرد واحد کے لیے ہم کبھی بھی لانگ مارچ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات پر ابھی کوئی بات نہیں کرسکتیں، ہمیں ایک دوسرے کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جو بات چیت ہورہی ہے اسے وقت دینا ہوگا۔ ہماری کوشش ہوگی کہ کل مذاکرات مکمل ہوجائیں اور کسی نتیجے پر پہنچیں۔

Related Articles