خون بہانے والوں سے مذاکرات کا پی ٹی آئی کا مطالبہ انتہائی گندی سوچ کا عکاس ہے، تحریک انصاف کے اپنے حامیوں کا شدید ردِ عمل

خون بہانے والوں سے مذاکرات کا پی ٹی آئی کا مطالبہ انتہائی گندی سوچ کا عکاس ہے، تحریک انصاف کے اپنے حامیوں کا شدید ردِ عمل

پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے دہشت گردوں سے مذاکرات کے مطالبے پر عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اپنے حامیوں نے بھی اس تجویز کو ملک دشمنی قرار دیتے ہوئے پاک فوج کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

سرگودھا کے شہریوں نے آزاد ڈیجیٹل کے ایک حالیہ سروے میں دہشتگرد گروہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کے امکان کو سختی سے رد کر دیا ہے۔

شہریوں کا واضح مؤقف سامنے آیا ہے کہ جو عناصر پاکستان کی سرزمین اور اس کے عوام پر حملے کرتے ہیں، ان کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔

ایک شہری نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت ایسے قاتلوں سے مذاکرات پر اصرار کرتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بھی انہی کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی حکومت کا طالبان سے مذاکرات کا نتیجہ یہ ہوا کہ 40 ہزار طالبان دوبارہ لا کر آباد کر دیئے،ممبر صوبائی اسمبلی اشبار جان جدون

عوام کے نزدیک دہشتگردی کا نشانہ بننے کے بعد ظالموں سے امن کی بھیک مانگنا یا مذاکرات کی میز پر بیٹھنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے اپنے حامیوں کی کڑی تنقید

اس تمام صورتحال میں سب سے حیران کن امر پاکستان تحریکِ انصاف کے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کا ردعمل ہے۔ ایک شہری، جس نے خود کو پی ٹی آئی کا کٹر حامی قرار دیا، اس نے اپنی ہی پارٹی کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ان ملک دشمن اور بے غیرت عناصر سے مذاکرات کی بات کرنا پارٹی کی سب سے گندی اور غلط سوچ ہے‘۔

اس کا ماننا تھا کہ قیادت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے فوری طور پر اپنا یہ فیصلہ اور مطالبہ واپس لینا چاہیے اور ریاستِ پاکستان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

پاک فوج کی قربانیوں کا اعتراف اور خراجِ تحسین

جہاں ایک طرف دہشتگردوں کے لیے نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب عوام کی دلوں میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے لیے بے پناہ محبت اور عقیدت موجود ہے۔

شہریوں نے سرحدوں پر اور اندرونِ ملک دہشتگردی کے خلاف برسرِ پیکار فوجی جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عوام نے کہا کہ پاک فوج نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشتگردی کے عفریت کا سامنا کر رہا ہے، جس میں ہزاروں عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکا نے دہشتگردوں کیخلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کر دی

ماضی میں بھی عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی کئی کوششیں کی گئیں، جو ہمیشہ ناکام ثابت ہوئیں کیونکہ دہشتگرد گروہوں نے امن معاہدوں کو محض اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

حال ہی میں ریاست اور عسکری قیادت نے یہ واضح پالیسی اپنائی ہے کہ آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والے کسی بھی مسلح گروہ سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے اور ان کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

قومی سلامتی کے بیانیے پر قوم کا غیر معمولی اتحاد

اس عوامی ردعمل کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب دہشتگردی کے حوالے سے کسی بھی قسم کے ابہام کا شکار نہیں ہے۔

ماضی میں بعض سیاسی جماعتیں امن کے نام پر ’مذاکرات‘ کا جو بیانیہ فروخت کرتی رہی ہیں، اب وہ عوام میں اپنی کشش کھو چکا ہے۔

سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر، حتیٰ کہ متعلقہ جماعت کے اپنے حامیوں کا اس بیانیے کو مسترد کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر قوم ریاست کے بیانیے کے ساتھ مکمل طور پر یکسو ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی اور کالعدم ٹی ٹی پی کے روابط، ماہرِ بین الاقوامی امور احمد حسن العربی تہلکہ خیز حقائق سامنے لے آئے

یہ عوامی شعور کا وہ بلوغت کا درجہ ہے جہاں سیاست کو ریاست پر ترجیح دینے کا کوئی بھی بیانیہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔

ریاستی اداروں کے لیے یہ عوامی حمایت ایک زبردست اخلاقی قوت ہے، جو دہشت گردی کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن کارروائیوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

Related Articles