وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں کسی بھی آئینی اقدام سے قبل مذاکرات کو ایک آخری موقع دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی تباہی اور دہشتگردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں سے مل کر پی ٹی آئی کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور دھرنے ختم کرنے کی ترغیب دی گئی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کے ذریعے اپوزیشن کو مذاکرات کی دوبارہ دعوت دی گئی اور ان کے وقت مانگنے پر گفتگو کا ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ ‘ابھی نہیں تو کبھی نہیں’ کی بنیاد پر حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے 800 ارب روپے دیے گئے مگر وہ سی ٹی ڈی اور پولیس کو مضبوط کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وفاق کا ہاتھ مضبوط کرنے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے اور چھٹا لانگ مارچ لانے کی تیاری کر رہی ہے، جسے اب کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سیاسی، معاشی اور آئینی تناظر
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ خطاب ملکی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر سامنے آیا ہے جہاں وفاق اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان محاذ آرائی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
ایک طرف جہاں سیکیورٹی فورسز افغانستان سے منسلک سرحد سے بڑھتی دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہیں، وہیں سیاسی عدم استحکام معاشی بحالی کے سفر کو متاثر کر سکتا ہے۔
آئی ایم ایف معاہدے کی خوشخبری اور بیرونی محاذ پر سفارتی کامیابیاں یقیناً حکومت کے لیے بڑی تقویت ہیں، مگر اندرونی طور پر سیاسی اتفاقِ رائے قائم کرنا سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
وفاق کی جانب سے پی ٹی آئی کو دیا گیا یہ آخری آئینی موقع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت تصادم کے بجائے سیاسی حل چاہتی ہے، تاہم اگر یہ پیش رفت ناکام ہوتی ہے تو وفاق کی جانب سے سخت آئینی اقدامات کا نفاذ ناگزیر ہو جائے گا۔
بین الاقوامی تعلقات، سعودی عرب اور علاقائی صورتحال
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مشرقِ وسطیٰ اور خطے کی جغرافیائی صورتحال کا تفصیلی احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ اور سعودی عرب پر کی جانے والی جارحیت ناقابلِ برداشت ہے اور دنیا کا کوئی مسلمان اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
پاکستان اپنے شانہ بشانہ کھڑے رہنے والے برادر ملک سعودی عرب کے تحفظ اور تعاون کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
ایران اور چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت کے دوران برادر ہمسائے ایران اور دیرینہ دوست چین کے ساتھ سفارتی و معاشی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے بحرِ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب اور آبنائے ہرمز کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی امن پر زور دیا۔
افغانستان سے متعلق گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ افغان سرزمین سے آنے والے دہشتگرد ہمارے شہریوں اور فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور اس حقیقت سے بارہا افغان حکومت کو آگاہ کیا گیا جو بظاہر اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔
معاشی اصلاحات، آئی ایم ایف معاہدہ اور ملکی ترقی
معاشی محاذ پر خوشخبری سناتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کامیابی سے طے پا چکا ہے جس سے جلد ہی 1.2 ارب ڈالر کی قسط موصول ہو جائے گی۔
عالمی رہنما اور مالیاتی ادارے پاکستان میں متعارف کرائی گئی اصلاحات سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر رات دن محنت کی جس کے نتیجے میں ملکی سفارتکاری کو دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
سابقہ ادوار کے 80 سالہ بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ راتوں رات تمام مسائل حل نہیں کیے جا سکتے مگر دانش ٹیکنالوجی جیسے منصوبے پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور کسی بھی سیاسی انارکی کی وجہ سے ملک کو دوبارہ ڈی ٹریک ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
